🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1094. إن الله تعالى فضل قريشا بسبع خصال
اللہ تعالیٰ نے قریش کو سات خصوصیات کے ذریعے فضیلت عطا فرمائی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7051
أخبرني أبو جعفر أحمد بن عُبيدٍ الحافظ الأسدي بهمذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا أبو مصعب ومحمد بن عبد الله بن ردّاد، قالا: [حدثنا إبراهيم ابن محمد] (1) حدثنا عثمان بن عبد الله بن أبي عتيق حدثني سعيد بن عمرو بن جَعْدة بن هبيرة، عن أبيه، عن جده (2) جَعْدةَ بن هبيرة قال: سمعتُ أُمِّي أم هانئ بنت أبي طالب قالت: قال لي رسول الله ﷺ:"إنَّ الله تعالى فضَّل قريشًا بسبع خصال لم يُعطَها أحدٌ قبلهم، ولا يُعطاها (3) أحدٌ بعدهم: فيهم النُّبوة، وفيهم الحِجابةُ، وفيهم السقايةُ، ونَصَرَهم على الفيل وهم لا يعبدون الله، وعبدوا الله عشر سنين لم يَعبُده غيرهم، ونزلت فيهم سورةٌ لم يُشرَك فيها غيرهم: ﴿لإِيلَافِ قُرَيْشٍ﴾". وقد روي عن يحيى بن جعدة بن هبيرة عن جدته أم هانئ:
سیدنا جعدہ بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میری والدہ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے قیرش کو 7 وجوہات کی بناء پر فضیلت دی ہے، وہ چیزیں ان سے پہلے کسی کو عطا نہیں ہوئیں، اور نہ ہی ان کے بعد کسی کو نصیب ہوئیں۔ * اس خاندان میں نبوت ہے۔ * (کعبۃ اللہ کی) دربانی کا پیشہ ان کے پاس ہے۔ * آب زم زم کی ذمہ داری ان کے پاس ہے۔ * اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کے لشکر کے مقابلے میں ان کی مدد کی۔ * یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کی بھی عبادت نہیں کرتے۔ * دس سال تک انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جبکہ ان کے سوا اور کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتا تھا۔ * ان کے بارے میں سورت لایلاف قریش نازل ہوئی، اس سورت میں دوسرے کسی خاندان کا ذکر نہیں ہے۔ یحیی بن جعدہ بن ہبیرہ نے بھی اپنی دادی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7051]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7051 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ما بين المعقوفين سقط من النسخ، وأثبتناه على الصواب من الرواية السالفة برقم (4019)، ومن مصادر التخريج.
🔍 فنی نکتہ / علّت: بریکٹ میں دی گئی عبارت نسخوں سے ساقط تھی، جسے ہم نے سابقہ روایت نمبر (4019) اور دیگر مصادرِ تخریج کی مدد سے درست طور پر درج کیا ہے۔
(2) في النسخ بعد هذا: عن أبيه، وهو غلط، ولعلَّ الغلط فيه من محمد بن عبد الله بن رداد فإنه لا يعرف، ولم نقف له على ترجمة، وقد روى هذا الخبر عن أبي مصعب - وهو أحمد بن أبي بكر الزهري - غير واحد فجعله من رواية سعيد بن عمرو عن أبيه عمرو عن جدته أم هانئ، وهي والدة جعدة بن هبيرة. وقد تقدم تخريج طريق أبي مصعب عند الرواية السالفة برقم (4019)، وهو حديث ضعيف.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخوں میں یہاں "عن ابیہ" کا ذکر غلط ہے، غالباً یہ وہم محمد بن عبداللہ بن رداد کی طرف سے ہے جو کہ غیر معروف راوی ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: ابومصعب (احمد بن ابی بکر زہری) سے کئی راویوں نے اسے سعید بن عمرو عن ابیہ عمرو عن جدتہ ام ہانیؓ (والدہ جعدہ بن ہبیرہ) کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "ضعیف" ہے اور اس کی تخریج نمبر (4019) پر گزر چکی ہے۔
(3) رسمت في النسخ الخطية: يعطها، وأثبتنا الجادة، وهي الموافقة لروايتي الطبراني وابن عدي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ "يعطها" لکھا تھا، ہم نے اسے رائج اور درست طریقے (يعطها) پر لکھا ہے جو طبرانی اور ابن عدی کی روایات کے موافق ہے۔