🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. أوقات الصلاة الخمس
پانچ فرض نمازوں کے اوقات۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 706
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا أبو زُرْعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي، حدّثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدّثنا محمد بن إسحاق، عن عاصم بن عمر بن قَتَادة، عن أنس بن مالك قال: كان أبعدَ رجلين من أصحاب رسول الله ﷺ دارًا أبو لُبَابة بن عبد المنذر وأهلُه بقُبَاء، وأبو عَبْس بن جَبْر ومَسكنُه في بني حارثة، فكانا يصلَّيان مع رسول الله ﷺ العصر، ثم يأتيانِ قومَهما وما صَلَّوا، لتعجيل رسول الله ﷺ بها (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 703 - على شرط مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے جن کے گھر سب سے دور تھے وہ ابو لبابہ بن عبد المنذر (جن کا گھر قبا میں تھا) اور ابو عبس بن جبر (جن کا گھر بنو حارثہ میں تھا) تھے، وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتے تھے اور پھر اپنی قوم کے پاس پہنچ جاتے تھے جبکہ انہوں نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہوتی تھی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز بہت جلدی پڑھاتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 706]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 706 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده حسن.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند 'حسن' ہے۔
وأخرجه أحمد 21/ (1382) من طريق إبراهيم بن سعد الزهري، عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد. وصرّح ابن إسحاق بسماعه عنده. وسيأتي برقم (5590).
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 21/ (1382) نے ابراہیم بن سعد زہری کے واسطے سے، انہوں نے محمد بن اسحاق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن اسحاق نے یہاں سماع کی تصریح (سُننے کا واضح ذکر) کی ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت آگے نمبر (5590) پر دوبارہ آئے گی۔