🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. أوقات الصلاة الخمس
پانچ فرض نمازوں کے اوقات۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 705
فأخبرنا أبو علي الحافظ (5) ، أخبرنا الحسين بن عبد الله القطَّان، حدّثنا عبد السلام بن عبد الحميد، حدّثنا موسى بن أَعيَنَ، عن الأوزاعي، عن أبي النَّجاشي قال: سمعت رافعَ بن خَدِيج يقول: قال رسول الله ﷺ:"ألا أُخبِرُكم بصلاة المنافق؟ أن يؤخِّرَ العصر حتى [إذا] كانت الشمسُ كثَرْبِ البقرة صلَّاها" (1) . أخرج مسلم (2) حديث العلاء بن عبد الرحمن عن أنس عن النبيّ ﷺ قال:"تلك صلاةُ المنافق، يجلِسُ أحدُهم حتى إذا اصفرَّت الشمس" الحديث.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں منافق کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ عصر کی نماز میں اتنی تاخیر کرتا ہے کہ جب سورج گائے کی اوجھڑی کی چربی کی طرح (زرد) ہو جاتا ہے تو وہ نماز پڑھتا ہے۔
امام مسلم نے اس کے ہم معنی سیدنا انس کی روایت نقل کی ہے جس میں سورج کے زرد ہونے کا ذکر ہے، یہ روایت اس کے لیے شاہدِ صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 705]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 705 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(5) وقع هنا في (ب) المطبوع اضطراب وتقديم وتأخير خلت منه نسخنا الخطية الأخرى فجاءت على الصواب.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مطبوعہ نسخہ (ب) میں یہاں اضطراب اور عبارت کی تقدیم و تاخیر (آگے پیچھے ہونا) واقع ہوئی ہے، جبکہ ہمارے پاس موجود دیگر خطی نسخے اس سے پاک ہیں اور ان میں عبارت درست حالت میں ہے۔
(1) إسناده حسن إن شاء الله، عبد السلام بن عبد الحميد ذكره ابن حبان في "ثقاته" وقال: ربما أخطأ، وذكره ابن عديّ في "الكامل" وقال: كان أبو عروبة الحرّاني يُسيءُ الرأي فيه، ولا أعلم بحديثه بأسًا ولم أرَ في حديثه منكرًا.
⚖️ درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند 'حسن' ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی عبد السلام بن عبد الحمید کو امام ابن حبان نے 'الثقات' میں ذکر کیا اور کہا کہ بسا اوقات غلطی کر جاتے ہیں۔ ابن عدی نے 'الکامل' میں ذکر کیا کہ ابو عروبہ حرانی ان کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے تھے، لیکن ابن عدی فرماتے ہیں کہ میری نظر میں ان کی حدیث میں کوئی حرج نہیں اور نہ ہی میں نے ان کی کوئی منکر روایت دیکھی ہے۔
وأخرجه الدارقطني (993) من طريق محمد بن أبي بكر، عن عبد السلام بن عبد الحميد بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام دارقطنی (993) نے محمد بن ابی بکر کے واسطے سے، انہوں نے عبد السلام بن عبد الحمید سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
والثَّرْب: الشَّحم الرقيق الذي يغشى الكَرِش والأمعاء. والمعنى: أنه نهى عن الصلاة إذا صارت الشمس كالثَّرب، أي: إذا تفرَّقت وخصَّت موضعًا دون موضع عند المغيب كما في "النهاية" لابن الأثير.
📝 نوٹ / توضیح: 'الثَّرْب' سے مراد وہ باریک چربی ہے جو اوجھڑی اور آنتوں پر لپٹی ہوتی ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے جب سورج 'ثرب' کی مانند ہو جائے، یعنی جب غروب کے وقت سورج کی روشنی بکھر جائے اور کسی جگہ ہو اور کسی جگہ نہ ہو (مانندِ چربی کی تہوں کے)۔ جیسا کہ ابن اثیر نے 'النھایہ' میں ذکر کیا ہے۔
(2) في "صحيحه" برقم (622).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت امام مسلم کی 'صحیح' میں نمبر (622) پر موجود ہے۔