🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1103. ذكر فاطمة بنت الخطاب بن نفيل أخت عمر - رضي الله عنهما -
سیدہ فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہا کا بیان، جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7069
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، حدثني عبد الرحمن بن الحارث بن عبد الله بن عيّاش، عن عبد العزيز بن عبد الله بن عامر بن رَبيعة، عن أبيه، عن أمِّه أمِّ عبد الله بنت أبي حَثْمةَ قالت: والله إنا لَنرحلُ إلى أرض الحَبشة، وقد ذهبَ عامرٌ في بعض حاجتِنا، إذ أقبل عمرُ بن الخطاب حتى وَقَفَ عليَّ وهو على شِركِه، وكنَّا نلقَى منه البلاءَ وشدةً (2) علينا، فقال: إنه لَلانطِلاقُ يا أمَّ عبد الله؟ فقلتُ: نعم، والله لنَحْرُجِنَّ في أرض الله، آذيتُمونا وقهرتُمونا، حتى يجعلَ الله لنا مَخرَجًا، فقال: صَحِبَكم الله، ورأيت له رِقَّةً لم أكن أراها، ثم انصرف وقد أحزنَه فيما أُرى خروجُنا، قال: فجاء عامرٌ من حاجتِه تلك، فقلتُ: يا أبا عبد الله، لو رأيتَ عمر آنفًا ورِقَّتَه وحُزْنَه علينا، قال: فيُطْمَعُ في إسلامه؟ قلتُ: نعم، قال: لا يُسلِمُ الذي رأيتِ حتى يُسلِمَ حِمارُ (1) الخطَّاب، قال يائسًا منه ممّا كان يَرَى من غِلظِته وقَسوتِه على الإسلام (2) . ذكرُ فاطمةَ بنتِ الخطَّاب بن نُفَيل أخت عُمَرَ ﵄
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6895 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ ام عبداللہ بنت ابی حثمہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! ہم سرزمین حبشہ کی جانب روانہ ہوئے، عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اپنے کسی کام سے گئے تھے، کہ اسی دوران سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، آپ میرے پاس کھڑے ہو گئے، آپ اپنے گھوڑے پر ہی تھے، جبکہ ہمیں ان کی جانب سے بہت سختیوں اور تکالیف کا سامنا تھا، آپ فرمانے لگے: اے ام عبداللہ! اب تو آزاد ہو رہی ہو، میں نے کہا: جی ہاں اللہ کی قسم! ہم اللہ کی زمین میں نکل جائیں گے، تم نے ہمیں بہت تکالیف دی ہیں اور ہم پر ظلم و ستم کے بہت پہاڑ توڑے ہیں، بالآخر اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے نکلنے کا راستہ بنا ہی دیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارا ساتھ دیا ہے، میں نے اس دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو رقت کی جس کیفیت میں دیکھا اس سے پہلے کبھی آپ پر ایسی کیفیت نہیں دیکھی۔ پھر آپ چلے گئے اور ہمارے جانے پر آپ بہت غمگین تھے، راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا عامر بن ربیعہ اپنا کام کر کے واپس آ گئے، میں نے کہا: اے ابوعبداللہ! کاش تم آج عمر کی حالت دیکھتے اور ہمارے جانے پر اس کی رقت والی کیفیت دیکھتے، عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم اس کے اسلام قبول کرنے کی لالچ رکھتی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے (عمر کے اسلام سے مایوس ہو کر) کہا: تم جس شخص کو مسلمان دیکھنا چاہتی ہو، وہ اس وقت تک اسلام نہیں لائے گا جب تک خطاب کے اونٹ اسلام نہیں لے آئیں گے۔ (یہ باتیں انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام سے مایوس ہو کر کہی تھیں کیونکہ وہ اسلام کے بارے میں سیدنا عمر کی شدت اور سختی کو دیکھ چکے تھے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7069]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7069 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده محتمل للتحسين، عبد الرحمن بن الحارث مختلف فيه، ضعَّفه علي بن المديني وأحمد والنسائي، ووثقه ابن سعد والعجلي وابن حبان، وقال ابن معين مرة: لا بأس به، ومرة: صالح، وقال أبو حاتم: شيخ. وشيخه عبد العزيز بن عبد الله ترجم البخاري 6/ 12 و 13 وابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 5/ 385 و 386 لاثنين هما واحد، وسكتا عنه، وقد روى عنه اثنان أو ثلاثة، وذكره ابن حبان 7/ 110. وانظر تعليق الحافظ ابن حجر في "لسان الميزان" على ذلك.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند حسن ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔ عبدالرحمٰن بن الحارث کے بارے میں اختلاف ہے؛ علی بن المدینی، احمد اور نسائی نے انہیں ضعیف کہا ہے، جبکہ ابن سعد، عجلی اور ابن حبان نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے۔ ابن معین نے ایک بار کہا: "لا بأس بہ" (کوئی حرج نہیں) اور ایک بار کہا: "صالح" ہیں۔ ابو حاتم نے کہا: "شیخ" ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور ان کے شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ کا ترجمہ بخاری (12/6 و 13) اور ابن ابی حاتم نے "الجرح والتعدیل" (385/5 و 386) میں دو الگ آدمیوں کے طور پر کیا ہے حالانکہ وہ ایک ہی ہیں، اور وہ ان کے بارے میں خاموش رہے ہیں۔ ان سے دو یا تین راویوں نے روایت کی ہے، اور ابن حبان نے انہیں (110/7) میں ذکر کیا ہے۔ حافظ ابن حجر کا "لسان المیزان" میں اس پر تعلیق ملاحظہ کریں۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 2/ 221 عن أبي عبد الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" 2/ 221 میں ابو عبد الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن هشام في "السيرة" 1/ 342، وعبد الله بن أحمد في "فضائل الصحابة" (371)، والمحاملي في "أماليه - رواية ابن البيع" (24)، والطبراني في "الكبير" 25/ (47)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (7832)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 44/ 23 من طريق محمد بن إسحاق وأبهم في رواية عبد الله بن أحمد عبدُ العزيز بن عبد الله، وجُعل مكانه: عمَّن لا يُتهم.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے ابن ہشام نے "السیرۃ" 1/ 342 میں، عبداللہ بن احمد نے "فضائل الصحابہ" (371)، محاملی نے "أمالي" (روایت ابن البیع - 24) میں، طبرانی نے "الکبیر" (47/25)، ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (7832)، اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 44/ 23 میں محمد بن اسحاق کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور عبداللہ بن احمد کی روایت میں عبدالعزیز بن عبداللہ کو "مبہم" رکھا گیا ہے اور ان کی جگہ "عَمَّنْ لَا يُتَّهَمُ" (اس شخص سے جو متہم نہیں ہے) کے الفاظ لائے گئے ہیں۔