المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1120. وأما أختها أم الحكم بنت الزبير - رضي الله عنها -
اور ان کی بہن سیدہ اُمِّ الحکم بنت زبیر رضی اللہ عنہا کا بیان
حدیث نمبر: 7095
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفَّار، حدَّثنا أحمد بن مَهدي بن رُسْتُم الأصبهاني، حدَّثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدَّثنا همَّام بن يحيى، عن قَتَادةَ، عن إسحاق بن عبد الله بن الحارث، عن جدَّته أمِّ الحَكَم، عن أختِها ضُباعةَ بنت الزُّبير: أنها دَفَعَت إلى رسولِ الله ﷺ لحمًا، فنَهَسَ منه، ثم صلَّى ولم يتوضَّأ (1) . وأما أختُها أُمُّ الحَكَم بنت الزُّبير (2) ﵂
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6920 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6920 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ضباعہ بنت زبیر کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ گوشت کھایا، بعد میں بغیر وضو دہرائے نماز پڑھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7095]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7095 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن اختلف فيه على قتادة وعلى غيره ممن رواه عن إسحاق بن عبد الله بن الحارث كما هم مُبيَّن في "مسند أحمد" عند الرواية (27091).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" (دیگر شواہد کی بنا پر صحیح) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں، لیکن قتادہ اور دیگر راویوں کے ہاں اسحاق بن عبداللہ بن الحارث سے روایت کرنے میں اختلاف پایا گیا ہے، جس کی تفصیل مسند احمد کی حدیث (27091) کے تحت موجود ہے۔
وقد ترجم المزي في "تهذيبه" لأم الحكم فقال: ويقال: أم حَكيم صفية، ويقال: عاتكة، ويقال: ضباعة بنت الزبير بن عبد المطلب بن هاشم القرشية الهاشمية بنت عم النبي ﷺ.
📌 اہم نکتہ: علامہ مزی نے "تہذیب" میں ام الحکم کا ترجمہ (تعارف) بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ: انہیں ام حکیم صفیہ بھی کہا جاتا ہے، بعض نے عاتکہ اور بعض نے ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب لکھا ہے، جو کہ نبی ﷺ کی چچا زاد بہن تھیں۔
وأخرجه أحمد 45/ (27357) عن عبد الصمد بن عبد الوارث، بهذا الإسناد. وقال فيه: عن جدته أم حكيم. وقرن بعبد الصمد عفان بن مسلم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 45/ (27357) میں عبدالصمد بن عبدالوارث کی سند سے روایت کیا ہے اور اس میں "اپنی دادی ام حکیم سے" کے الفاظ ہیں۔ عبدالصمد کے ساتھ عفان بن مسلم بھی اس روایت میں شریک ہیں۔
وانظر ما سيأتي برقمي (7097) و (7098).
📝 نوٹ / توضیح: مزید تفصیل کے لیے آگے آنے والی احادیث نمبر (7097) اور (7098) ملاحظہ فرمائیں۔
ويشهد له حديثُ ابن عباس عند البخاري (207)، ومسلم (354): أنَّ رسول الله ﷺ أكل كتف شاة، ثم صلَّى ولم يتوضأ.
🧩 متابعات و شواہد: اس روایت کی تائید حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ہوتی ہے جو بخاری (207) اور مسلم (354) میں ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے بکری کے شانے کا گوشت کھایا اور پھر (تازہ) وضو کیے بغیر نماز ادا فرمائی۔
وحديثُ ميمونة عند البخاري (210)، ومسلم (356).
🧩 متابعات و شواہد: اسی طرح سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی روایت بھی صحیح بخاری (210) اور صحیح مسلم (356) میں شاہد کے طور پر موجود ہے۔
(2) ويقال: هي ضُباعة بنت الزبير كما في التعليق السابق.
📝 نوٹ / توضیح: ایک قول کے مطابق یہ خاتون ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا ہی ہیں، جیسا کہ گزشتہ نوٹ میں ذکر کیا گیا۔