🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1143. ذكر أمانة قريش
قریش کی امانت داری کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7128
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حدَّثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهْري، حدَّثنا قَبيصة بن عُقبة، حدَّثنا سفيان، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن إسماعيل بن عُبيد بن رِفاعة بن رافع الزُّرَقي، عن أبيه، عن جدِّه: أنَّ رسول الله ﷺ قال لعمر بن الخطاب:"يا عمرُ، اجمَعْ لي قومَك" فجمعهم، ثم دخلَ عليه، فقال: يا رسولَ الله قد جمعتُهم، فيدخلُون عليك أم تخرُجُ إليهم؟ فقال:"بل أخرُجُ إليهم"، فسمعَتْ بذلك المهاجرون والأنصارُ، فقالوا: لقد جاء في قريش وحيٌ، فحَضَرَ الناظرُ والمستمعُ ما يُقال لهم، فقامَ بينَ أظهُرِهم فقال:"هل فيكم غيرُكم؟" قالوا: نعم، فينا حلفاؤُنا وأبناءُ أخواتِنا ومَوالينا [فقال رسولُ الله ﷺ:"حلفاؤُنا منَّا، وبنو أَخواتنا منَّا، ومَوالينا] (2) منَّا" فقال:"أنتُم تسمعونَ: أوليائي منكم المُتَّقون، فإنْ كنتُم أولئكَ فذلك، وإلَّا فأبصرُوا ثم أبصِرُوا، لا يَأْتِيَنَّ النَّاسُ بالأعمالِ وتأتونَ بالأثقالِ فيُعرَضَ عنكم"، ثم نادَى فرفعَ صوتَه فقال:"إنَّ قريشًا أهلُ أمانةٍ، مَن بَغَاهِمُ العواثِرَ كبَّه الله لمَنْخِره" قالها ثلاثًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6952 - صحيح
اسماعیل بن عبید بن رفاعہ بن رافع زرقی اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عمر! اپنی قوم کو میرے پاس جمع کرو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سب کو جمع کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے سب کو جمع کر لیا ہے، وہ آپ کے پاس اندر آ جائیں یا آپ خود ان کے پاس تشریف لے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں خود ان کے پاس جاتا ہوں، یہ بات مہاجرین اور انصار نے سن لی، وہ لوگ کہنے لگے: قریش میں وحی نازل ہوئی، تو دیکھنے والے اور سننے والے سب لوگ (یہ سننے کے لئے) حاضر ہو گئے کہ ان کو کیا حکم دیا جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں کوئی غیر شخص تو نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، ہمارے حلیف، ہمارے بیٹے، ہمارے بھائی اور ہمارے موالی موجود ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے حلیف بھی ہم میں سے ہی ہیں اور ہمارے بھائی بھی ہم میں سے ہی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے یہ بات نہیں سن رکھی کہ تم میں سے میرا ولی وہ شخص ہے جو پرہیزگار ہے، اگر تمہارے اندر پرہیزگاری ہے تو ٹھیک ہے۔ ورنہ تم بہت غور فکر کر لو، لوگ اعمال ہرگز نہیں لائیں گے اور تم بوجھ لاتے ہو تو تم سے اعراض کر لیا جاتا ہے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے ندا دیتے ہوئے فرمایا بے شک قریش اہل امانت ہیں، جس نے ان کے خلاف سازش کی، اللہ تعالیٰ اس کو منہ کے بل گرا دے گا۔ یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دہرائی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7128]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7128 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) ما بين المعقوفين سقط من النسخ، واستدركناه من مصادر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: ان قوسین (Brackets) کے درمیان موجود عبارت اصل نسخوں سے ساقط تھی، جسے ہم نے تخریج کے دیگر مآخذ کی مدد سے مکمل کیا ہے۔
(1) إسناده ضعيف لجهالة إسماعيل بن عبيد بن رفاعة. سفيان: هو الثَّوري. ولبعضه شواهد يأتي ذكرها.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعیف ہونے کی وجہ اسماعیل بن عبید بن رفاعہ کی "جہالت" (مجہول ہونا) ہے۔ سند میں مذکور سفیان سے مراد "سفیان بن سعید الثوری" ہیں۔ تاہم، اس روایت کے بعض حصوں کے شواہد موجود ہیں جن کا ذکر آگے آئے گا۔
وأخرجه تامًّا ومختصرًا ابن أبي شيبة 12/ 167، وأحمد 31/ (18992) و (18993)، وابن أبي عاصم في "السنة" (1507)، والطبراني في "الكبير" (4547) من طريق وكيع، عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو مکمل اور مختصراً امام ابن ابی شیبہ نے 12/ 167، امام احمد نے 31/ (18992، 18993)، ابن ابی عاصم نے "السنۃ" (1507) اور امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" (4547) میں وکیع از سفیان ثوری کی سند سے اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسلف مختصرًا عند المصنف برقم (3305) من طريق أبي حذيفة النهدي، عن سفيان الثوري.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت مختصراً مصنف کے ہاں پہلے بھی گزر چکی ہے (نمبر 3305)، جو ابو حذیفہ نہدی از سفیان ثوری کے طریق سے مروی ہے۔
وأخرجه تامًّا ومختصرًا أحمد (18994)، والبخاري في "الأدب المفرد" (75)، والبزار في "مسنده" (3725)، والبغوي في "الصحابة" (681)، والطبراني (4544) و (4545) و (4546)، والبيهقي في "معرفة السنن" (221) من طرق عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، به. وقال البزار عقبه: لا نعلم يرويه بهذا اللفظ إلا رفاعة بن رافع، وهذا الطريق عنه من حسان الأسانيد التي تروى في ذلك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (18994)، امام بخاری نے "الادب المفرد" (75)، بزار نے اپنی "مسند" (3725)، بغوی نے "الصحابہ" (681)، طبرانی (4544، 4545، 4546) اور بیہقی نے "معرفۃ السنن" (221) میں عبد اللہ بن عثمان بن خثیم کے طرق سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام بزار فرماتے ہیں کہ ہمارے علم کے مطابق ان الفاظ کے ساتھ اسے صرف رفاعہ بن رافع ہی روایت کرتے ہیں، اور ان سے مروی یہ طریق اس باب کی بہترین (حسان) اسناد میں سے ہے۔
وأخرجه معمر في "الجامع" (19897) عن ابن خثيم، عن رجل من الأنصار، عن أبيه، فذكره.
🧾 تفصیلِ روایت: امام معمر نے "الجامع" (19897) میں اسے ابن خثیم از ایک انصاری شخص از والد (انصاری) کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وقوله: "بنو أخواتنا وموالينا منا" قد صحَّ من حديث أنس بن مالك بلفظ: "ابن أخت القوم منهم، أو من أنفسهم" و "مولى القوم من أنفسهم"، أخرجهما البخاري (6762) و (6761) وغيرُه.
🧩 متابعات و شواہد: آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ "ہماری بہنوں کے بیٹے اور ہمارے آزاد کردہ غلام ہم میں سے ہی ہیں" صحیح طور پر ثابت ہے۔ حضرت انس بن مالک کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں: "قوم کی بہن کا بیٹا ان ہی میں سے ہوتا ہے" اور "قوم کا آزاد کردہ غلام ان کی اپنی جانوں میں سے (یعنی ان ہی کا حصہ) ہے"۔ یہ دونوں روایتیں امام بخاری (6762 اور 6761) وغیرہ نے نقل کی ہیں۔
وقوله: "أوليائي المتقون" له شاهد من حديث أبي هريرة اختلف في وصله وإرساله، قال الدارقطني في "العلل" (1769): يرويه محمد بن عمرو واختلف عنه؛ فرواه محمد بن فليح وعيسى بنُ يونس وغيرُهما، رووه عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة. وخالفهم إسماعيلُ بن جعفر وخالدٌ الواسطي، فروياه عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة، مرسلًا، والمرسل أصحُّ.
🧩 متابعات و شواہد: آپ ﷺ کا قول "میرے ولی (دوست) تو صرف پرہیزگار ہی ہیں" کا ایک شاہد حضرت ابو ہریرہ کی حدیث سے ملتا ہے، جس کے "وصل" (سند کا جڑا ہونا) اور "ارسال" (سند میں صحابی کا ذکر نہ ہونا) میں اختلاف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام دارقطنی "العلل" (1769) میں فرماتے ہیں کہ محمد بن عمرو سے اسے روایت کرنے والوں میں اختلاف ہوا؛ محمد بن فلیح اور عیسیٰ بن یونس وغیرہ نے اسے "موصول" (عن ابی سلمہ عن ابی ہریرہ) بیان کیا، جبکہ اسماعیل بن جعفر اور خالد واسطی نے اسے "مرسل" (عن ابی سلمہ) روایت کیا ہے، اور مرسل روایت ہی زیادہ صحیح ہے۔
وعن عبد الله بن عمر عند أحمد 10/ (6168)، وأبي داود (4242)، واختلف أيضًا في وصله وإرساله، وسيأتي عند المصنف برقم (8647) لكن دون قوله: "أوليائي المتقون"، فانظر الكلام عليه هناك.
📖 حوالہ / مصدر: حضرت عبد اللہ بن عمر سے یہ روایت امام احمد 10/ (6168) اور ابو داؤد (4242) کے ہاں بھی ہے، جس کے وصل و ارسال میں بھی اختلاف ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: مصنف کے ہاں یہ روایت نمبر (8647) پر آئے گی، مگر وہاں "اولیاء المتقون" کے الفاظ نہیں ہیں، اس پر بحث وہیں ملاحظہ کریں۔