المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1143. ذكر أمانة قريش
قریش کی امانت داری کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7127
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدَّثنا عثمان بن عمر، حدَّثنا ابن أبي ذِئب، عن الزُّهْري، عن طلحة بن عبد الله بن عوف، عن عبد الرحمن بن أَزْهَر، عن جُبَير بن مُطْعِمٍ، أَنَّ رسول الله ﷺ قال:"للرجل من قُريشٍ من القوَّةِ ما للرجلينِ من غير قريشٍ". قال الزُّهْري: يعني نُبْلَ الرأي (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6951 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6951 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک قریشی میں دو (غیر) قریشیوں کے برابر قوت ہے۔ امام زہری کہتے ہیں (رائے دہی کے لحاظ سے) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7127]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7127 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. ابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ابن ابی ذئب سے مراد "محمد بن عبد الرحمن بن مغیرہ" ہیں۔
وأخرجه أحمد 27/ (16742) و (16766) عن يزيد بن هارون، وابن حبان (6265) من طريق أحمد بن عبد الله بن يونس، كلاهما عن ابن أبي ذئب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 27/ (16742، 16766) میں یزید بن ہارون سے، اور ابن حبان نے (6265) میں احمد بن عبد اللہ بن یونس سے روایت کیا ہے، اور یہ دونوں (یزید اور احمد) اسے ابن ابی ذئب کی اسی سند سے روایت کرتے ہیں۔
قال السندي في شرحه على "مسند أحمد": قوله: "نبل الرأي"، بضم فسكون، بمعنى الذكاء والنجابة، ويمكن أن يكون بفتح فسكون، أي: سهم الرامي، أي: سهام رأي القرشي تُصيب ضِعفَ ما تُصيب سهامُ رأي غيره، يريد أن رأيه أقل خطأ، وكأنه لذلك خُصُّوا بالإمامة الكبرى.
📝 نوٹ / توضیح: علامہ سندی "مسند احمد" کی شرح میں فرماتے ہیں: لفظ "نُبْل" (نون کے ضمہ کے ساتھ) کا مطلب "ذہانت اور نجابت" ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ "نَبْل" (نون کے فتحہ کے ساتھ) ہو جس کا مطلب "تیر" ہے، یعنی قریشی کی رائے کا تیر دوسروں کے مقابلے میں دگنا نشانے پر لگتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ ان کی رائے میں خطا کم ہوتی ہے، اور غالباً اسی وجہ سے انہیں "امامتِ کبریٰ" کے لیے خاص کیا گیا ہے۔
وقال الطحاوي في "شرح مشكل الآثار" 8/ 153 - 154: تأملنا هذا، فكان معناه عندنا - والله أعلم - أنه على القرشي ذي الرأي، لا على من سواه من غير أهل الرأي وإن كان قرشيًا، وذلك أنَّ الشيء إذا وصف به رجل من قوم ذوي عدد، جاز أن تضاف الصفة إلى أولئك القوم جميعًا، وإن كان المراد به خاصًّا منهم.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: امام طحاوی "شرح مشکل الآثار" 8/ 153 میں فرماتے ہیں: ہم نے اس پر غور کیا تو ہمارے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ یہ فضیلت "صاحبِ رائے قریشی" کے لیے ہے، نہ کہ ہر قریشی کے لیے چاہے وہ اہل رائے میں سے نہ ہو۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب کسی صفت کے ساتھ کسی قوم کے چند افراد موصوف ہوں، تو اس صفت کی نسبت پوری قوم کی طرف کرنا جائز ہوتا ہے، اگرچہ مراد ان میں سے خاص لوگ ہی ہوتے ہیں۔