🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1150. آخِرُ خُطْبَةِ النَّبِيِّ وَأَمْرُهُ لِتَكْرِيمِ الْأَنْصَارِ
نبی کریم ﷺ کا آخری خطبہ اور انصار کی تکریم کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7147
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدَّثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدَّثنا أبو الوليد الطيالسي، حدَّثنا عبدُ الرحمن بن سليمان بن الغَسِيل، حدَّثنا عِكْرمة، عن ابن عبّاس قال: خرجَ النبيُّ ﷺ في مرضه وقد عَصَبَ رأسَه بخِرقةٍ، فقال:"إنَّ الناسَ يَكثُرونَ ويَقِلُّ الأنصارُ، حتى يكونوا في الناس مثلَ المِلْحِ في الطعام، فمن وَلِيَ منكم عملًا، فليَقبَلْ مِن مُحسِنِهم ويتجاوَزْ عن مُسِيئِهم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6971 - ذا في البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی علالت کے دوران اس حال میں باہر تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر مبارک پر کپڑے کی پٹی باندھی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ تو بڑھتے جائیں گے مگر انصار کم ہوتے جائیں گے یہاں تک کہ وہ لوگوں میں ایسے ہو جائیں گے جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے، پس تم میں سے جسے بھی کسی کام کا ذمہ دار بنایا جائے، وہ ان کے نیکوکاروں کی نیکی قبول کرے اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 7147]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد جيد من أجل عبد الرحمن بن الغسيل.» [ترقيم الرساله 7147] [ترقيم الشركة 7066] [ترقيم العلميه 6971]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7147 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد جيد من أجل عبد الرحمن بن الغسيل.
⚖️ درجۂ حدیث: "صحیح لغیرہ" ہے اور عبد الرحمن بن غسیل کی وجہ سے یہ سند "جید" ہے۔
وأخرجه أحمد 3/ (2074) و 4/ (2629)، والبخاري (927) و (3628) و (3800) من طرق عن عبد الرحمن بن الغسيل بهذا الإسناد. ورواياتُ البخاري أو في من رواية الحاكم، ورواية أحمد الأولى مختصرة بلفظ: خَطبَ الناس، وعليه عِصابة دَسِمة.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام احمد نے 3/ (2074) اور 4/ (2629) میں، اور امام بخاری نے (927)، (3628) اور (3800) میں عبدالرحمن بن الغسیل (عبدالرحمن بن سلیمان بن غسیل) کے طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: امام بخاری کی روایات حاکم کی روایت سے زیادہ کامل اور وافر ہیں، جبکہ امام احمد کی پہلی روایت مختصر ہے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ "نبی ﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور آپ ﷺ کے سر مبارک پر سیاہ یا تیل والی پٹی (عصابة دسمة) بندھی ہوئی تھی"۔
واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📝 نوٹ / توضیح: امام حاکم کا اس حدیث کو مستدرک میں لانا ان کا "ذہول" (بھول/چوک) ہے کیونکہ یہ بخاری و مسلم کے معیار پر پہلے ہی ثابت ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7147 in Urdu