🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. إن لكل نخلة مبلغ جريدها حريما
کھجور کے ہر درخت کی شاخوں کے پھیلاؤ کی حد تک اس کی حریم (ملکیتی جگہ) ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7215
أخبرني الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرني ابن جُريج، أخبرنا زياد بن سعد، عن هِلال بن أسامة: أنَّ أبا ميمونة سُليمًا، من أهل المدينة رجلُ صِدْقٍ - قال: بينا أنا جالسٌ عند أبي هريرة جاءته امرأةٌ فارسية معها ابنٌ لها، وقد طلَّقها زوجُها، فقالت: يا أبا هريرة، ثم رَطَنَت فقالت بالفارسية: زوجي يريد أن يذهبَ بابني، قال: فجاء زوجُها فقال: من يُحاقُّني؟ فقال أبو هريرة: إنِّي لا أقولُ في هذا إلَّا أَنِّي سمعتُ أنَّ امرأةً جاءت إلى النبي ﷺ وأنا قاعدٌ عنده، فقالت: فِداكَ أبي وأمِّي يا رسول الله، إِنَّ زوجي يريدُ أن يذهبَ بابني، وهو يَسقِيني من بئر أبي عِنَبة، وقد نَفَعَني، فقال:"استَهِما عليه" فقال زوجُها: من يُحاقُّني في ولدي يا رسولَ الله؟ فقال النبي ﷺ:"يا غلامُ، هذا أبوك، وهذه أمُّك، فخُذْ بيدِ أيِّهما شئتَ" فأخذ الغلامُ بيد أمِّه، فانطلقت به (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7039 - صحيح
ابومیمونہ سلیمان اہل مدینہ میں سے ایک سچا آدمی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس ایک ایرانی عورت آئی، اس کے پاس اس کا ایک بچہ بھی تھا، اس کا شوہر اس کو طلاق دے چکا تھا، عورت نے کہا: یا ابا ہریرہ، اس کے بعد اس نے عجمی زبان میں بات کرنا شروع کی (کہنے لگی) میرا شوہر میرا بیٹا لے جانا چاہتا ہے، ابومیمونہ کہتے ہیں: پھر اس کا شوہر آ گیا اور کہنے لگا: مجھے (میرے بچے سے) کون جدا کرے گا؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں موجود تھا، آپ کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، میرا شوہر میرے بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے جبکہ ابوعتبہ کے کنویں سے میرا یہی بیٹا مجھے پانی بھر کر لا کر دیتا ہے اور دیگر بہت سارے کام بھی کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرعہ اندازی کر لو، اس کے شوہر نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بیٹے کو مجھ سے کون جدا کر سکتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لڑکے! یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے، تو جس کے ساتھ جانا چاہتا ہے، اس کا ہاتھ تھام لے۔ اس لڑکے نے ماں کا ہاتھ تھام لیا، چنانچہ وہ عورت لڑکا لے گئی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7215]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7215 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان بن جبلة، وعبد الله: هو ابن المبارك، وابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: راویوں کی تفصیل یہ ہے: ابو الموجہ سے مراد محمد بن عمرو الفزاری، عبدان سے عبد اللہ بن عثمان بن جبلہ، عبد اللہ سے عبد اللہ بن المبارک اور ابن جریج سے مراد عبد الملک بن عبد العزیز ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2277)، والنسائي (5660) من طرق عن ابن جريج، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد (2277) اور امام نسائی (5660) نے ابن جریج کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 12/ (7352)، وابن ماجه (2351)، والترمذي (1357) من طريق سفيان بن عيينة، عن زياد بن سعد به مختصرًا. وقال الترمذي: حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (12 / 7352)، ابن ماجہ (2351) اور ترمذی (1357) نے سفیان بن عیینہ کے طریق سے، انہوں نے زیاد بن سعد سے مختصرًا روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 15 / (9771) من طريق يحيى بن أبي كثير، عن أبي ميمونة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (15 / 9771) نے یحییٰ بن ابی کثیر کے طریق سے، انہوں نے ابو میمونہ سے روایت کیا ہے۔