🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب فى فضل الصلوات الخمس
پانچ فرض نمازوں کی فضیلت کے بیان کا باب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 722
حدّثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدّثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدّثنا أبو الرَّبيع ابن أخي رِشْدِين وأبو الطاهر قالا: أخبرنا عبد الله بن وهب، أخبرني مَخْرَمة بن بُكَير، عن أبيه، عن عامر بن سعد بن أبي وقَّاص قال: سمعتُ سعدًا وناسًا من أصحاب رسول الله ﷺ يقولون: كان رجلانِ أخَوانِ في عهد رسول الله ﷺ، وكان أحدُهما أفضلَ من الآخر، فتُوفي الذي هو أفضلُهما، ثم عُمِّرَ الآخرُ بعده أربعين يومًا، ثم تُوفيَ، فذكروا الرسول الله ﷺ فضيلةَ الأوَّل على الآخِر، فقال:"ألم يكن يُصلي؟" قالوا: بلى يا رسول الله، وكان لا بأسَ به، فقال رسول الله ﷺ:"فما يُدرِيكم ماذا بَلَغَت به صلاتُه، إنَّما مَثَلُ الصلاة كَمَثَل نهرٍ جارٍ بباب رجلٍ، عَمْرٍ عَذْبٍ، يَقتحِمُ فِيهِ كلَّ يوم خمسَ مرَّات، فماذا تَرَونَ يبقى من دَرَنِه؟ لا تدرونَ ماذا بَلَغَت به صلاتُه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، فإنهما لم يخرجا مَخرَمةَ بن بُكير، والعِلَّة فيه أنَّ طائفة من أهل مصر ذكروا أنه لم يسمع من أبيه لصِغَر سنِّه، وأثبتَ بعضُهم سماعَه منه (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 718 - صحيح
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں دو بھائی تھے، ان میں سے ایک دوسرے سے (عبادت میں) افضل تھا، پھر اس افضل بھائی کا انتقال ہو گیا اور دوسرا اس کے بعد چالیس دن تک زندہ رہا اور پھر وہ بھی فوت ہو گیا۔ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پہلے بھائی کی دوسرے پر فضیلت کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ (دوسرا بھائی) نماز نہیں پڑھتا تھا؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ! وہ نماز تو پڑھتا تھا اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا معلوم کہ اس کی نماز نے اسے کس مقام پر پہنچا دیا ہے؟ نماز کی مثال تو اس میٹھے اور صاف شفاف بہتے ہوئے دریا کی طرح ہے جو کسی شخص کے دروازے پر ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غوطہ لگاتا ہو، تو کیا تم سمجھتے ہو کہ اس کے بدن پر کوئی میل کچیل باقی رہے گا؟ تم نہیں جانتے کہ اس کی نماز نے اسے کہاں پہنچا دیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 722]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 722 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده قوي من أجل مخرمة بن بكير.
⚖️ درجۂ حدیث: مخرمہ بن بکیر کی وجہ سے یہ سند قوی ہے۔
وأخرجه أحمد 3/ (1534) عن هارون بن معروف، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 3/ (1534) نے ہارون بن معروف کے واسطے سے، انہوں نے عبد اللہ بن وہب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(3) وقد خرَّج مسلم لمخرمة بن بكير عن أبيه عدة أحاديث، فقوله: "لم يخرجا مخرمة بن بكير" ¤ ¤ ذهولٌ من منه ﵀، وإنما لم يخرجه البخاريّ وحده للخلاف المذكور، وقد ذهب أحمد بن حنبل ويحيى بن معين وغيرهما أنه كان يحدّث من كتب أبيه، ومثل هذا يُحتَجّ به.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام مسلم نے مخرمہ بن بکیر کی اپنے والد سے روایت کردہ کئی احادیث کی تخریج کی ہے، لہٰذا امام حاکم رحمہ اللہ کا یہ کہنا کہ "شیخین نے مخرمہ کو روایت نہیں کیا" ایک ذہنی چوک (ذہول) ہے۔ امام بخاری نے اکیلے اس روایت کو مذکورہ اختلاف کی وجہ سے ترک کیا ہے، جبکہ امام احمد اور یحییٰ بن معین وغیرہ کی رائے ہے کہ وہ اپنے والد کی کتابوں سے روایت کرتے تھے اور اس طرح کی روایت قابلِ حجت ہوتی ہے۔