المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
19. الصلح جائز بين المسلمين إلا ما حرم حلالا
مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے سوائے اس کے جو حلال کو حرام کر دے
حدیث نمبر: 7237
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن حَيَّان، حدثنا إبراهيم بن معاوية أبو إسحاق الكَرابيسي، حدثنا هشام بن يوسف، عن مَعمَر، عن الزُّهْري، عن ابن كعب بن مالك، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ حَجَرَ على معاذ بن جبل مالَه، وباعه بدَينٍ كان عليه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7060 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7060 - صحيح
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا مال (قرض کی وجہ سے) روک لیا تھا، اور اسے اس قرض کی ادائیگی کے لیے فروخت کر دیا تھا جو ان کے ذمہ واجب الادا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7237]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7237]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، وقد سلف مكررًا برقم (2379).» [ترقيم الرساله 7237] [ترقيم الشركة 7155] [ترقيم العلميه 7060]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7237 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، وقد سلف مكررًا برقم (2379).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "حسن لغیرہ" ہے، مگر یہ سند ضعیف ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ پہلے مکرر طور پر رقم (2379) کے تحت گزر چکی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7237 in Urdu