المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
20. ذكر قصة سرق
سارق (چوری) کے قصے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7238
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتَادة عن أنس بن مالك: أنَّ رجلًا كان على عهدِ رسولِ الله ﷺ يبتاعُ، وكان في عُقْدته ضعفٌ، فأتَى أهلُه رسولَ الله ﷺ، فقالوا: يا نبيَّ الله، احجُزْ على فلان، فإنه يبتاعُ وفي عُقدتِه ضعفٌ، فدعاه نبيُّ الله ﷺ، فنهاه عن البيع، قال: يا نبيَّ الله، إني لا أصبِرُ عن البيع، فقال:"إن كنتَ غيرَ تاركٍ البيعَ، فقُلْ: ها ولا خِلَابةَ" (2) . و
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7061 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7061 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی تجارت کیا کرتا تھا، اس کو سودا کرنے کا صحیح طریقہ نہیں آتا تھا، اس کے گھر والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! فلاں شخص کے تصرفات پر پابندی لگا دیں، کیونکہ وہ خرید و فروخت کرتا ہے اور اس کی سودے بازی میں کمزوری پائی جاتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور خرید و فروخت سے منع کر دیا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تجارت سے رک نہیں سکتا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس سے نہیں رہ سکتے تو سودے کے موقع پر کہہ دیا کرو ” کوئی دھوکہ نہیں چلے گا “۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7238]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7238 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل يحيى بن أبي طالب وعبد الوهاب بن عطاء - وهو الخفاف - وقد توبعا.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یحییٰ بن ابی طالب اور عبد الوهاب بن عطاء الخفاف کی وجہ سے یہ سند قوی ہے، اور ان دونوں کی متابعت بھی موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 21/ (13276)، وأبو داود (3501)، وابن حبان (5049) و (5050) من طرق عن عبد الوهاب بن عطاء بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (21 / 13276)، ابو داؤد (3501) اور ابن حبان (5049، 5050) نے عبد الوهاب بن عطاء کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2354)، والترمذي (1250)، والنسائي (6033) من طريق عبد الأعلى بن عبد الأعلى السامي، عن سعيد بن أبي عروبة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2354)، ترمذی (1250) اور نسائی (6033) نے عبد الاعلیٰ بن عبد الاعلیٰ السامی کے طریق سے سعید بن ابی عروبہ سے روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن ابن عمر سلف عند المصنف برقم (2232).
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت پہلے مصنف کے ہاں رقم (2232) پر گزر چکی ہے۔
قوله: "في عقدته ضعف" أي: في رأيه ونظره في مصالح نفسه. قاله ابن الأثير في "النهاية".
📌 اہم نکتہ: قول "في عقدته ضعف" کا مطلب یہ ہے کہ اس کی رائے اور اپنے مفادات کے معاملات کی سمجھ بوجھ میں کمزوری ہے۔ یہ وضاحت ابن الاثیر نے "النہایہ" میں کی ہے۔
وقوله: "ها ولا خلابة" قال الخطابي في "معالم السنن" 3/ 67 - 68: ها وها معناه التقابض، وأصحاب الحديث يقولون: ها وها، مقصورَيْن والصواب مدُّهما ونصب الألف منهما. وقوله: هاء، إنما هو قول الرجل لصاحبه إذا ناوله الشيء: هاك، أي: خذ، فأسقطوا الكاف منه، وعوَّضوه المدّ بدلًا من الكاف.
📌 اہم نکتہ: قول "ہا ولا خلابة" کے بارے میں خطابی "معالم السنن" (3/ 67-68) میں کہتے ہیں کہ "ہا اور ہا" کا مطلب موقع پر لین دین (ہاتھوں ہاتھ) ہے۔ اصحاب الحدیث اسے مقصور (مختصر) پڑھتے ہیں مگر درست اسے مد کے ساتھ پڑھنا ہے۔ "ہاء" دراصل اس وقت کہا جاتا ہے جب کوئی شخص دوسرے کو چیز دیتے ہوئے کہے "ہاک" (یعنی یہ لو)، یہاں 'کاف' گرا کر اس کے بدلے مد لگا دیا گیا ہے۔
ومعنى "لا خِلابة" قال ابن الأثير: أي: لا خِداع.
📌 اہم نکتہ: "لا خِلابة" کا معنی ابن الاثیر کے نزدیک "دھوکہ نہ دینا" (کوئی فریب نہ ہونا) ہے۔