🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. كان النبى يجعل يمينه لطعامه وشرابه وثيابه
نبی کریم ﷺ کھانے، پینے اور لباس (پہننے) کے لیے دائیں ہاتھ کا استعمال فرماتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7267
حدثنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرُو، حدثنا أبو قِلابة الرَّقَاشي، حدثنا أبو عتّاب سهل بن حماد، حدثنا عبد الملك بن أبي نَضْرة، عن أبيه، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ يهوديةً أهدَتْ شاةً إلى رسول الله ﷺ سَميطًا، فلما بسط القومُ أيديَهم، قال لهم النبيُّ ﷺ:"كُفُّوا أيديَكم، فإنَّ عُضوًا من أعضائها يُخبرني أنها مسمومةٌ" قال: فأرسلَ إلى صاحبتِها فقال:"أسمَمْتِ طعامَك هذا؟" قالت: نعم، أحببتُ إن كنتَ كاذبًا أن أُريحَ الناسَ منك، وإن كنتَ صادقًا علمتُ أنَّ الله سيُطلعُك عليه، فقال رسول الله ﷺ:"اذكُرُوا اسمَ الله وكُلُوا"، فأكَلْنا، فلم يضرَّ أحدًا منّا شيئًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7090 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک یہودی خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھنی ہوئی بکری تحفہ میں دی۔ جب صحابہ کرام اس کو کھانے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے ہاتھ کو روک لو، کیونکہ بکری کے ایک عضو نے مجھے بتایا ہے کہ اس میں زہر ملی ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو بلوایا اور فرمایا: کیا تو نے اس کھانے میں زہر ملایا ہے؟ اس نے کہا۔ جی ہاں۔ میں چاہتی تھی کہ اگر تم جھوٹے ہو تو لوگوں کی تم سے جان چھوٹ جائے گی اور اگر تم سچے ہو تو میں جانتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اطلاع دے دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کا نام لے کر اس کو کھا لو۔ چنانچہ ہم نے اللہ کا نام لے کر اس کو کھا لیا، کسی کو کچھ بھی نقصان نہیں ہوا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7267]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7267 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث منكر، يخالف ما صحَّ عن النبي ﷺ من إمساكه وأصحابه عن الطعام بعدما علم أنَّ الشاة مسمومة كما سيأتي. كما أنه ورد أن بشر بن البراء بن معرور قد مات بسبب تلك الأكلة، كما سلف عند المصنف برقم (5032) و (5033)، وما ورد في "الصحيح" من تأثيرها في لهواته ﷺ، وما سلف عند المصنف (4441) و (5032) من أنها سبب انقطاع أبهره ﷺ.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث منکر ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ روایت ان صحیح احادیث کے خلاف ہے جن میں ذکر ہے کہ جب نبی ﷺ کو معلوم ہوا کہ بکری مسموم (زہریلی) ہے، تو آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ کھانے سے رک گئے تھے۔ نیز یہ بھی ثابت ہے کہ حضرت بشر بن براء بن معرور رضی اللہ عنہ اسی کھانے کی وجہ سے وفات پا گئے تھے، جیسا کہ مصنف کے ہاں رقم (5032) اور (5033) پر گزر چکا ہے۔ صحیح روایات میں اس زہر کا اثر آپ ﷺ کے تالو میں باقی رہنے کا ذکر ہے، اور مصنف کے ہاں رقم (4441) اور (5032) میں گزر چکا ہے کہ یہی زہر آپ ﷺ کی رگِ جان (ابہر) کے کٹنے کا سبب بنا۔
وقد خولف أبو عتاب سهل بن حماد في إسناده ومتنه أيضًا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو عتاب سہل بن حماد کی اس روایت کی سند اور متن دونوں میں مخالفت کی گئی ہے۔
وأخرجه البزار (2424 - كشف الأستار)، وأبو نعيم في "دلائل النبوة" (147) من طريق هلال بن بشر، وقرن به البزار سليمان بن سيف الحراني، كلاهما عن سهل بن حماد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بزار نے "کشف الاستار" (2424) میں اور ابو نعیم نے "دلائل النبوۃ" (147) میں ہلال بن بشر کے طریق سے روایت کیا ہے۔ امام بزار نے ہلال کے ساتھ سلیمان بن سیف الحرانی کو بھی ملا کر ذکر کیا ہے، اور یہ دونوں سہل بن حماد سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
قال البزار عقبه: لا نعلم يروى عن أبي سعيد إلّا من هذا الوجه.
📌 اہم نکتہ: امام بزار اس روایت کے بعد فرماتے ہیں: "ہماری معلومات کے مطابق حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ روایت صرف اسی ایک طریق سے مروی ہے"۔
قلنا: وخالف سهلَ بن حماد عثمانُ بن جبلة، فرواه عن عبد الملك بن أبي نضرة، عن أبيه، عن جابر به، فجعله من مسند جابر، ولم يذكر فيها جملة: "اذكروا اسم الله وكلوا" فأكلنا فلم يضر أحدًا منا شيئًا. أخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 4/ 260 من طريق محمد بن رزام المروزي، عن خلف بن عبد العزيز، عن أبيه عبد العزيز بن عثمان بن جبلة، عن أبيه عثمان، به. وهذا إسناد حسن، ومحمد بن رزام المروزي كنيته أبو أحمد، ترجمه ابن ماكولا في "الإكمال" 4/ 46 ووصفه بالفقيه الأديب، وذكر أنه انتخب عليه أبو بكر بن علي الحافظ، كما أنه من شيوخ ابن عدي، وهو غير محمد بن رزام البصري الأبلي المتهم المترجم في "الميزان".
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہم کہتے ہیں کہ سہل بن حماد کی مخالفت عثمان بن جبلہ نے کی ہے، انہوں نے اسے عبد الملک بن ابی نضرہ سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ یوں انہوں نے اسے حضرت جابر کی مسند بنا دیا اور اس میں یہ جملہ ذکر نہیں کیا کہ "اللہ کا نام لو اور کھاؤ، چنانچہ ہم نے کھایا اور ہم میں سے کسی کو کوئی نقصان نہ ہوا"۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (4/ 260) میں محمد بن رزام المروزی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند "حسن" ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: محمد بن رزام المروزی (ابو احمد) ایک ثقہ فقیہ اور ادیب ہیں جن کا تذکرہ ابن ماکولا نے "الاکمال" (4/ 46) میں کیا ہے؛ یہ وہ "محمد بن رزام البصری" نہیں ہیں جو متہم اور "میزان الاعتدال" میں مذکور ہیں۔
وانظر حديث أبي هريرة السالف برقم (5033) وتعليقنا عليه.
📖 حوالہ / مصدر: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث رقم (5033) اور اس پر ہمارا تبصرہ ملاحظہ فرمائیں۔
سميطًا، أي: مشوية.
📌 اہم نکتہ: لفظ "سمیطاً" سے مراد بھنا ہوا گوشت (مشویہ) ہے۔