المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. أبواب الأذان والإقامة
اذان و اقامت کا بیان
حدیث نمبر: 727
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا محمد بن عيسى الطَّرَسُوسي، حدثنا الرَّبيع بن يحيى، حدثنا شُعْبة. وحدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب بن حَرْب، حدثنا عبد الله بن خَيْرانَ، حدثنا شُعبة. وأخبرنا أبو بكر بن أبي نصر الدارَبردي بمَرْو، حدثنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرني أَبي، عن شعبة. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن بالَوَيهِ قالا: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي حدثنا، محمد - وهو ابن جعفر - حدثنا شعبة، عن أبي جعفر المَدِيني، عن مسلم أبي المثنَّى القارئ قال: سمعت ابنَ عمر يقول: كان الأذانُ على عهد رسول الله ﷺ مرَّتَين مرَّتَين، والإقامةُ مرةً، غيرَ أنه يقول: قد قامت الصلاةُ، مرتين، فإذا سمعنا الإقامةَ توضَّأْنا ثم خرجنا إلى الصلاة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ أبا جعفر هذا عُمَير بن يزيد بن حبيب الخَطْمي (2) ، وقد روى عن سعيد بن المسيّب وعُمارة بن خُزَيمة بن ثابت، وقد روى عنه سفيان الثَّوري وشعبة وحمَّاد بن سَلَمة وغيرهم من أئمة المسلمين، وأما أبو المثنَّى القارئ فإنه من أستاذِي نافع بن أبي نُعيم، واسمه مسلم بن المثنَّى، روى عنه إسماعيل بن أبي خالد وسليمان التَّيْمي وغيرهما من التابعين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 709 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ أبا جعفر هذا عُمَير بن يزيد بن حبيب الخَطْمي (2) ، وقد روى عن سعيد بن المسيّب وعُمارة بن خُزَيمة بن ثابت، وقد روى عنه سفيان الثَّوري وشعبة وحمَّاد بن سَلَمة وغيرهم من أئمة المسلمين، وأما أبو المثنَّى القارئ فإنه من أستاذِي نافع بن أبي نُعيم، واسمه مسلم بن المثنَّى، روى عنه إسماعيل بن أبي خالد وسليمان التَّيْمي وغيرهما من التابعين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 709 - صحيح
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان (کے کلمات) دو دو بار اور اقامت ایک ایک بار کہی جاتی تھی، سوائے ”قد قامت الصلاۃ“ کے کہ وہ دو بار کہی جاتی تھی، جب ہم اقامت سنتے تو وضو کرتے اور نماز کے لیے نکل پڑتے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اس کے راوی ابو جعفر خطمی اور ابو المثنیٰ القاری ثقہ اور مقبول ائمہ میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 727]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، اس کے راوی ابو جعفر خطمی اور ابو المثنیٰ القاری ثقہ اور مقبول ائمہ میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 727]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 727 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده. قوي. وهو في "مسند أحمد" 9/ (5569).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند قوی ہے اور یہ 'مسند احمد' 9/ (5569) میں موجود ہے۔
وأخرجه أبو داود (510)، وابن حبان (1674) من طريق محمد بن بشار، عن محمد بن جعفر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داود (510) اور ابن حبان (1674) نے محمد بن بشار کے واسطے سے، انہوں نے محمد بن جعفر (غندر) سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (9/ (5570) و (5602)، والنسائي (1605) و (1644)، وابن حبان (1677) من طرق عن شعبة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، نسائی اور ابن حبان نے مختلف طرق سے امام شعبہ کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
(2) تعقَّب الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" 8/ 679 كلام الحاكم هذا فقال: قد وهمَ الحاكم في تسميته، فإنه لا يُسمَّى، وهو كوفي، وعمير بن يزيد بصري وشعبة قد روى عن عمير عدة أحاديث، وأما هذا (يعني أبا جعفر المديني) فقال النسائي في روايته لهذا الحديث: قال شعبة: لم أسمع منه غير هذا الحديث، والمشهور أنه محمد بن مِهران بن مسلم بن المثنى، ومسلم الذي روى عنه هذا الحديث هو جدُّه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: حافظ ابن حجر نے 'اتحاف المہرہ' 8/ 679 میں امام حاکم کے کلام پر تعاقب کرتے ہوئے فرمایا کہ امام حاکم کو اس کے نام میں وہم ہوا ہے، اس کا نام ذکر نہیں کیا جاتا اور وہ کوفی ہے، جبکہ عمیر بن یزید بصری ہے اور شعبہ نے عمیر سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔ اس راوی (ابو جعفر مدینی) کے بارے میں امام نسائی نے کہا ہے کہ شعبہ نے اس سے صرف یہی ایک حدیث سنی ہے۔ مشہور یہ ہے کہ یہ محمد بن مہران بن مسلم بن المثنیٰ ہے، اور مسلم جس سے یہ حدیث مروی ہے وہ ان کا دادا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مُرُوا الصِّبْيَانَ بِالصِّلَاةِ لِسَبْعِ سِنِينَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا فِي عَشْرِ سِنِينَ، وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ» ”بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں (اور نماز نہ پڑھیں) تو انہیں مارو، اور ان کے سونے کے بستر الگ الگ کر دو۔“ [المستدرك على الصحيحين/أول كتاب الصلاة/حدیث: 727N]