🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. ذكر وفد بني المنتفق
بنو منتفق کے وفد کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7270
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا عُبيد بن شَريك، حدثنا محمد بن عبد العزيز الرملي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن محمد بن حمزة بن عبد الله بن سَلَام، عن أبيه، عن جدِّه: أنَّ النبيَّ ﷺ كان في بعض أصحابه إذ أقبل عثمانُ يقودُ بعيرًا عليه غِرارتان مُحتجِزٌ (1) بعِقال ناقته، فقال له النبيُّ ﷺ:"ما معك؟" قال: دَقيقٌ وسَمْن وعسَل، فقال له النبي ﷺ:"أنِخْ" فأناخ، فدعا النبيُّ ﷺ ببُرْمة عظيمة، فجعل فيها من ذلك الدقيق والسَّمن والعسل، ثم أنضجَه، فأكل النبيُّ ﷺ، وأكلُوا ثم قال لهم:"كُلُوا، فإنَّ هذا يُشبه خَبِيصَ أهلِ فارس" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7093 - صحيح
محمد بن حمزہ بن عبداللہ بن سلام اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام میں موجود تھے، کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اونٹ چلاتے ہوئے وہاں پہنچے، ان پر دو بورے ڈالے ہوئے تھے، اونٹ کی لگام کو اپنی کمر سے باندھے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تمہارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آٹا، گھی اور شہد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اونٹ کو بٹھاؤ، انہوں نے اونٹ کو بٹھایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا سا تھال منگوایا، اس میں کچھ آٹا، گھی اور شہد ڈالا، پھر ان کو پکا لیا، اس میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کھایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی کھایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کہا: کھاؤ، کیونکہ یہ اہل فارس کے خبیص (کھانے سے ملتا جلتا ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7270]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7270 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صورتها في (ز) و (ص): يحتجبن، والمثبت من (ص) و (ب).
📌 اہم نکتہ: نسخہ (ز) اور (ص) میں یہ لفظ "یحتجبن" لکھا ہے، جبکہ ہم نے نسخہ (ص) اور (ب) کے مطابق درست لفظ درج کیا ہے۔
(2) إسناده ضعيف، حمزة بن عبد الله بن سلام: هو حمزة بن يوسف بن عبد الله بن سلام، وجاء على الصواب في مصادر التخريج، والمقصود بجدِّه هنا هو عبد الله بن سلام الإسرائيلي صاحب النبي ﷺ كما جاء صريحًا في رواية الطبراني في "معجمه الكبير"، وحمزة هذا في عداد مجهولي الحال، فقد تفرَّد بالرواية عنه ولده محمد، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان. الوليد بن مسلم: هو الدمشقي، وعبيد بن شريك: هو ابن عبد الواحد بن شريك.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حمزہ بن عبد اللہ بن سلام (درست نام: حمزہ بن یوسف بن عبد اللہ بن سلام) مجہول الحال ہیں، ان سے صرف ان کے بیٹے محمد نے روایت کی ہے اور ابن حبان کے علاوہ کسی نے ان کی توثیق نہیں کی۔ یہاں "جدّہ" (ان کے دادا) سے مراد جلیل القدر صحابی حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ہیں، جیسا کہ طبرانی کی روایت میں صراحت ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ولید بن مسلم سے مراد الدمشقی اور عبید بن شریک سے مراد ابن عبد الواحد بن شریک ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (14953) عن المطلب بن شعيب الأزدي، عن محمد بن عبد العزيز الرملي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" (14953) میں مطلب بن شعیب الازدی کے طریق سے محمد بن عبد العزیز الرملی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو بكر الشافعي في "الغيلانيات" (988)، والطبراني في "الأوسط" (7688)، وفي "الصغير" (833)، والبيهقي في "الشعب" (5533) من طريق محمد بن المتوكل، عن الوليد بن مسلم، به. وقال الطبراني: لا يروى هذا الحديث عن عبد الله بن سلام إلّا بهذا الإسناد، تفرد به الوليد بن مسلم. ووقع في رواية أبي بكر الشافعي والبيهقي: عن جده أو غيره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو بکر الشافعی نے "الغيلانیات" (988)، طبرانی نے "الاوسط" (7688) اور "الصغیر" (833)، اور بیہقی نے "شعب الایمان" (5533) میں محمد بن المتوکل کے طریق سے ولید بن مسلم سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام طبرانی فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن سلام سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ مروی ہے اور ولید بن مسلم اس میں منفرد ہیں۔ ابو بکر الشافعی اور بیہقی کی روایت میں "اپنے دادا یا کسی اور سے" کے الفاظ ہیں۔
وأخرجه تمام في "الفوائد" (1623)، وفي "جزء إسلام زيد بن حارثة" (3) من طريق محمد بن المتوكل، عن الوليد، عن محمد بن حمزة بن يوسف بن عبد الله، عن أبيه، عن جده، عن عبد الله بن سلام. والصواب رواية الجماعة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: تمام نے "الفوائد" (1623) میں اسے روایت کیا ہے جس میں سند کو لمبا کیا گیا ہے، لیکن درست وہی ہے جو راویوں کی جماعت نے روایت کیا ہے۔
قوله: "الغرارتان" واحدها غِرارة، بكسر الغين: وعاء يكون فيه الكعك والقديد وغيره.
📌 اہم نکتہ: لفظ "الغرارتان" کی واحد "غِرارہ" (غین کے زیر کے ساتھ) ہے؛ یہ وہ تھیلا یا برتن ہوتا ہے جس میں خشک روٹی، سوکھا گوشت یا دیگر زادِ راہ رکھا جاتا ہے۔
محتجز بعقال ناقته ربطه على وسطه.
📝 نوٹ / توضیح: "محتجز بعقال ناقتہ" کا مطلب ہے کہ انہوں نے اونٹنی کی رسی (عقال) کو اپنی کمر پر بطور کمر بند باندھ رکھا تھا۔
البُرمة: القِدر.
📌 اہم نکتہ: "البُرمہ" مٹی یا پتھر کی ہانڈی کو کہتے ہیں۔