المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
9. أطيب اللحم لحم الظهر
بہترین گوشت پیٹھ (پشت) کا گوشت ہے
حدیث نمبر: 7273
ما حدَّثَنيهِ أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون و محمد بن غالب بن حرب، قالا: حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا أبو عَوَانة، عن الأسود بن قيس، عن نُبيح العَنَزي، عن جابر بن عبد الله قال: لما قُتل أبي ترك عليَّ دينًا، فذكر الحديثَ بطوله، وقال فيه: قلتُ لامرأتي: إنَّ رسول الله ﷺ يَجيئُنا اليومَ نصفَ النهار، فلا تؤذي رسولَ الله ﷺ ولا تُكلِّميه، قال: فدخل وفرشتُ له فراشًا ووسادة، فوضع رأسَه ونامَ (2) ، فقلتُ لمولًى لي: اذبَحْ هذه العَنَاق - وهي داجنٌ سمينة - والوَحَا والعَجَلَ، افرُغْ قبل أن يستيقظَ رسولُ الله ﷺ وأنا معك. فلم نَزَلْ فيها حتى فَرَغْنا منها وهو نائم، فقلتُ له: إنَّ رسول الله ﷺ إذا استيقظ يدعو بالطَّهور، وإني أخافُ إذا فَرَغَ أن يقومَ، فلا يَفرُغَنَّ من وُضوئه حتى تضع العَنَاقَ بين يديه. فلما قام قال:"يا جابرُ، ائتني بطَهور" فلم يَفرُغ من طُهوره حتى وضعتُ العَنَاقَ بين يديه، فنظر إليَّ فقال:"كأنَّك علمتَ حُبَّنا اللحمَ، ادعُ لي أبا بكر"، ثم دعا حواريِّيهِ الذينَ معه فدخَلُوا، فضربَ رسولُ الله ﷺ بيدِه، وقال:"باسمِ الله، كُلُوا" فأكلوا حتى شَبِعُوا، وفَضَلَ منها لحمٌ كثيرٌ، وذكر باقي الحديث (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7096 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7096 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب میرے والد محترم شہید ہوئے تو انہوں نے مجھ پر بہت سارا قرضہ چھوڑا، اس کے بعد انہوں نے طویل حدیث بیان کی، اس میں یہ بھی ذکر کیا کہ میں نے اپنی بیوی سے کہا: آج دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے غریب خانہ پر تشریف لا رہے ہیں، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف نہ دینا اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ باتیں کرنا۔ ان کی زوجہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بستر بچھا دیا اور تکیہ بھی رکھ دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور تکیے پر سر رکھ کر سو گئے۔ میں نے اپنے غلام سے کہا: اس عناق (بکری کا بچہ جو ابھی ایک سال کا نہیں ہوا) کو ذبح کر لو، یہ موٹی تازی بکری تھی۔ اور یہ سب کام انتہائی تیزی کے ساتھ کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیدار ہونے سے پہلے سب کاموں سے فارغ ہو جاؤ، میں بھی تمہارے ساتھ کام کرواتا ہوں۔ ہم مسلسل کام کرتے رہے، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بیدار ہونے سے پہلے فارغ ہو گئے، میں نے اس سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیدار ہوتے ہیں تو پانی طلب فرماتے ہیں، اور مجھے خدشہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وضو سے فارغ ہو کر تشریف نہ لے جائیں۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو سے فارغ ہونے سے پہلے ہمیں تھال دسترخوان پر رکھ دینا چاہیے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آواز دی: اے جابر! پانی لاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی وضو سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ میں نے وہ تھال پیش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری جانب دیکھا اور فرمایا: لگتا ہے تم نے گوشت میں حیس (خاص قسم کا کھانا) بنایا ہے۔ ابوبکر کو بلا کر لاؤ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ان ساتھیوں کو بھی بلا لیا اور اکثر ان کے ہمراہ ہوتے ہیں۔ یہ سب لوگ آ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ بڑھایا اور فرمایا: بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرو۔ ان سب لوگوں نے پیٹ بھر کر کھایا (اس کے باوجود) بہت سارا گوشت بچ گیا تھا۔ اس کے بعد پوری حدیث بیان کی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7273]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7273 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في النسخ: فرفع رأسه وقام، والمثبت من "تلخيص الذهبي"، ومصدري التخريج.
📌 اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں "فرفع رأسہ وقام" کے الفاظ ہیں، جبکہ ہم نے "تلخیص الذہبی" اور دیگر مصادرِ تخریج کے مطابق درست الفاظ درج کیے ہیں۔
(1) إسناده صحيح. أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابو عوانہ سے مراد "الوضاح بن عبد اللہ الیشکری" ہیں۔
وأخرجه بتمامه أحمد 23/ (15281) عن عفّان بن مسلم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (23 / 15281) میں مکمل طور پر عفان بن مسلم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔