🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. رغبته - صلى الله عليه وآله وسلم - إلى اللحم
نبی کریم ﷺ کی گوشت کی طرف رغبت و پسندیدگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7272
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أسد بن موسى، حدثنا أبو هلال محمد بن سُليم، حدثنا إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن جابر قال: جعَلْنا للنبيِّ ﷺ فَخّارةً، فأتيتُه بها، فاطَّلع في جوفها فقال:"حَسِبتُه لحمًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد إن كان إسحاق بن أبي طلحة سمع من جابر، ولم يخرجاه. وفيه البيانُ الواضح لمحبَّة رسولِ الله ﷺ اللحمَ. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7095 - صحيح
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مٹی کی ہنڈیا میں کھانا بنایا، پھر میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے درمیان جھانک کر دیکھا، پھر فرمایا: اس گوشت کے لئے میں کافی ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ (لیکن یہ حکم اس صورت میں ہے کہ) اگر اسحاق بن ابی طلحہ کا جابر سے سماع ثابت ہو جائے۔ اور اس میں واضح بیان موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گوشت پسند کرتے تھے۔ اس کی شاہد حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7272]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7272 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي هلال محمد بن سليم: وهو الراسبي.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور ابو ہلال محمد بن سلیم الراسبی کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 22 / (14581) عن عبد الصمد بن عبد الوارث، عن محمد بن سليم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (22 / 14581) نے عبد الصمد بن عبد الوارث کے طریق سے محمد بن سلیم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويشهد له ما سيورده المصنف برقم (7276) من طريق عمرو بن دينار عن جابر، وفيه قصة، وذكر فيه بدل الفخّارة الخَزيرة، وذكرنا معناها في الحديث السابق.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی شاہد روایت وہ ہے جو مصنف آگے رقم (7276) پر عمرو بن دینار عن جابر کے طریق سے لائیں گے، اس میں ایک قصہ ہے اور وہاں "فخارہ" کے بجائے "خزیرہ" کا ذکر ہے، جس کا معنی ہم پچھلی حدیث میں بیان کر چکے ہیں۔
وانظر ما بعده.
📝 نوٹ / توضیح: اس کے بعد والی روایت بھی ملاحظہ فرمائیں۔