🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. أَطْيَبُ اللَّحْمِ لَحْمُ الظَّهْرِ
بہترین گوشت پیٹھ (پشت) کا گوشت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7276
أخبرني أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا أبو عبد الرحمن أحمد بن شعيب النَّسائي (3) وعبد الله بن محمد بن ناجيَة، قالا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن حبيب بن الشَّهيد، حدثنا أبي [عن أبيه] (4) عن عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله بن عمرو بن حَرَام، قال: أمر أبي بخَزيرة، فصُنعت، ثم أمرني فحملتُها إلى رسول الله ﷺ فإذا هو في منزله، فقال:"ما هذا يا جابرُ؟ ألحمٌ هذا؟" قلتُ: لا يا رسول الله، ولكنها خَزيرة أمر بها أبي فصُنعت، ثم أمرني فحملتُها إليك، ثم رجعتُ إلى أبي فقال: هل رأيتَ رسول الله ﷺ؟ قلتُ: نعم، قال: فما قال لك؟ قلت: قال:"ألحمٌ هذا يا جابر؟" قال أبي: عسى أن يكونَ رسولُ الله ﷺ اشتهَى اللحمَ، فقام إلى داجنٍ له فذبحَها وشواها، ثم أمرني بحملها إليه، فقال رسول الله ﷺ:"جَزَى الله الأنصارَ عنَّا خيرًا، ولا سيَّما عبدِ الله بن عمرو بن حَرَام وسعدِ بن عُبادة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7099 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میرے والد نے ”خزیرہ“ (گوشت اور آٹے سے تیار کردہ کھانا) تیار کرنے کا حکم دیا، میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اے جابر! کیا یہ گوشت ہے؟“ میں نے عرض کی: نہیں یا رسول اللہ! بلکہ یہ خزیرہ ہے، پھر میں نے واپس آ کر والد کو بتایا تو انہوں نے کہا: شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل گوشت کھانے کو چاہ رہا ہے، چنانچہ انہوں نے گھریلو پالی ہوئی بکری ذبح کر کے اسے بھونا اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے جانے کا حکم دیا، (جب میں پہنچا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے انصار کو بہترین جزا عطا فرمائے، بالخصوص عبداللہ بن عمرو بن حرام اور سعد بن عبادہ کو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7276]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 7276] [ترقيم الشركة 7194] [ترقيم العلميه 7099]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7276 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: الشيباني.
📌 اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہاں تحریف ہو کر "الشیبانی" لکھا گیا ہے۔
(4) ما بين المعقوفين أثبتناه من مصادر التخريج.
📌 اہم نکتہ: بریکٹ [ ] کے درمیان موجود مواد ہم نے دیگر مصادرِ تخریج کی مدد سے درج کیا ہے۔
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه النسائي (8223) عن محمد بن عثمان، وابن حبان (7020) من طريق أحمد بن إبراهيم الدورقي، كلاهما عن إبراهيم بن حبيب بن الشهيد، عن أبيه حبيب، عن عمرو بن دينار، عن جابر. ورواية النسائي مختصرة بقصة الدعاء للأنصار.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (8223) نے محمد بن عثمان سے، اور ابن حبان (7020) نے احمد بن ابراہیم الدورقی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں ابراہیم بن حبیب سے، وہ اپنے والد حبیب سے، وہ عمرو بن دینار سے اور وہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ نسائی کی روایت میں صرف انصار کے لیے دعا کا قصہ مختصراً مذکور ہے۔
وانظر ما سلف برقم (7272).
📖 حوالہ / مصدر: مزید تفصیل کے لیے سابقہ روایت رقم (7272) ملاحظہ فرمائیں۔
الخَزيرة: هي لحم يقطع صغارًا، ويصب عليه ماء كثير، فإذا نضج وضع عليه الدقيق.
📌 اہم نکتہ: "الخزیرہ" وہ پکوان ہے جس میں گوشت کے چھوٹے ٹکڑے کر کے زیادہ پانی میں ابالا جائے اور پھر آٹا ڈال کر پکایا جائے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7276 in Urdu