🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. لعوق الأصابع بعد الطعام
کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7297
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا عبد الله بن يوسف التِّنيسي، حدثنا خالد بن يزيد بن أبي مالك، عن أبيه، أنه حدثه عن واثلة بن الأسقع، وكان من أهل الصُّفّة، قال: أقمنا ثلاثةَ أيام، وكان مَن يخرج من المسجد يأخذُ بيد الرجلين والثلاثة بقَدْر طاقتِه فيُطعمُهم، قال: فكنتُ فيمن أخطأه ذلك ثلاثةَ أيام ولياليَها، قال: فأبصرتُ أبا بكر عند العَتَمة فأتيتُه فاستقرأتُه من سورة سبأ، فبلغَ منزلَه، ورجوتُ أن يدعوَني إلى طعام، فقرأ عليَّ حتى بلغَ بابَ المنزل، ثم وقفَ على البابِ حتى قرأ عليَّ البقيةَ، ثم دخلَ وتركني، قال: ثم تعرَّضتُ لعمرَ، فصنعتُ به مثلَ ذلك، وذكر أنه صنعَ مثلَ ما صنعَ أبو بكر، فلمَّا أصبحتُ غَدَوتُ على رسولِ الله ﷺ، فأخبرتُه، فقال للجارية:"هل من شيء؟" قالت: نعم، رغيفٌ وكِيلةٌ من سَمْن، فدعا بها، ثم فَتَّ الخبزَ بيده، ثم أخذ تلك الكِيلةَ من السَّمن فلَتَّ تلك الخبزةَ، ثم جمعَه بيدِه حتى صيَّره ثريدةً، ثم قال:"اذهَبْ ادْعُ عشرةً أنت عاشرُهم"، فدعوتُ عشرةً أنا عاشرُهم، ثم قال:"اجلِسُوا"، ووُضعتِ القصعةُ، ثم قال:"كُلُوا باسم الله، كُلُوا من جوانبها، ولا تأكلُوا من فوقها، فإنَّ البَرَكةَ تَنزِلُ من فوقِها"، فأكَلْنا حتى صَدَرْنا، فكأنما خطَّطْنا فيها بأصابعِنا، ثم أخذها منا وأصلَحَ منها وردَّها، ثم قال:"ادْعُ لي عشرةً"، وذكر أنه دعا بعد ذلك مرتين (1) عشرةً عشرةً، وقال: وفَضَلُوا فَضْلًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7119 - خالد وثقه بعضهم وقال النسائي ليس بثقة
سیدنا واثلہ بن اسقع اہل صفاء میں سے ہیں: آپ فرماتے ہیں: ہم پر تین دن بہت سخت گزرے، (اس وقت یہ سلسلہ عام تھا کہ) جو صحابی نماز پڑھ کر مسجد سے نکلتا، وہ اپنی حیثیت کے مطابق ایک، یا دو یا تین (یا زیادہ) کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے جاتا اور کھانا کھلا دیتا۔ آپ فرماتے ہیں: میں ان لوگوں میں سے ہوں کہ تین دن کوئی بھی میرا ہاتھ پکڑ کر ساتھ نہیں لے کر گیا۔ میں نے عشاء کی نماز میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھا، میں ان کے پاس آ گیا، میں یہ چاہتا تھا کہ آپ مجھے کھانے کی پیشکش کر دیں (اسی بہانے سے) میں نے ان کو سورت سبا سکھانے کو کہا، آپ نے سورۃ سبا سنانا شروع کی اور سناتے سناتے اپنے گھر تک پہنچ گئے، گھر کے دروازے پر رک کر انہوں نے سورت پوری کی اور اندر تشریف لے گئے اور مجھے اسی طرح چھوڑ دیا، میں پھر سیدنا عمر کے پیچھے لگ گیا، انہوں نے بھی سیدنا ابوبکر کی طرح ہی کیا۔ (رات بھوکے ہی گزاری) صبح کے وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور رات کا ماجرا سنایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی سے پوچھا: کچھ کھانے کے لئے ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ روٹی اور ایک پیالہ گھی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ منگوائی، پھر اپنے ہاتھ سے روٹی کا چورا کیا، اور گھی کا پیالہ لے کر اس میں روٹی کو خوب مل دیا پھر اپنے ہاتھ سے اس کو جمع کیا، اور اس کو ثرید بنا دیا۔ پھر فرمایا: جاؤ، اپنے سمیت دس صحابہ کو بلا بلاؤ، میں نے اپنے سمیت دس آدمیوں کو بلایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، میں نے وہ تھال رکھ دیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بسم اللہ پڑھ کر اس کے کناروں سے کھاؤ، اوپر سے نہیں کھانا کیونکہ برکت اوپر سے نازل ہوتی ہے۔ پھر راوی نے بتایا کہ اس کے بعد پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ دس دس آدمیوں کو بلایا، (سب نے پیٹ بھر کر کھایا اس کے باوجود) کافی سارا کھانا بچ گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7297]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7297 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) المثبت من "تلخيص الذهبي"، وهو الوجه، وفي النسخ الخطية: من.
📝 نوٹ / توضیح: متن میں جو لفظ قائم کیا گیا ہے وہ علامہ ذہبی کی "تلخیص" سے لیا گیا ہے اور وہی درست ہے، جبکہ قلمی نسخوں میں اس کی جگہ لفظ "من" (سے) لکھا ہوا تھا۔
(2) إسناده ضعيف، خالد بن يزيد - وهو ابن عبد الرحمن - بن أبي مالك أكثر أهل العلم على تضعيفه، وقد روي هذا الحديث من غير ما وجه عن واثلة في كلٍّ منها فقال، وفي متونها اختلاف. لكن الأمر بالأكل من جوانب القصعة صحيح، كما في الحديث السابق. وأخرج نحوه مختصرًا أحمد 25 / (16006) من طريق ربيعة بن يزيد الدمشقي، عن واثلة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: خالد بن یزید بن عبد الرحمن بن ابی مالک کو اکثر اہل علم نے ضعیف قرار دیا ہے۔ حضرت واثلہ سے یہ حدیث کئی طرق سے مروی ہے لیکن ان سب میں کمزوری ہے اور متن میں بھی اختلاف ہے۔ 📌 اہم نکتہ: اگرچہ یہ سند ضعیف ہے، لیکن برتن کے کناروں سے کھانے کا حکم گزشتہ "صحیح" حدیث سے ثابت ہے۔ امام احمد نے بھی (16006) میں ربیعہ بن یزید کے واسطے سے واثلہ سے اس کا مختصر حصہ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (3276) من طريق عبد الرحمن بن أبي قسيمة، عن واثلة. مختصرًا بقصة الأكل من الجانب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (3276) نے عبد الرحمن بن ابی قسیمہ کے طریق سے واثلہ سے روایت کیا ہے، جس میں صرف کنارے سے کھانے کا تذکرہ اختصار کے ساتھ ہے۔