علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
17. البركة تنزل فى وسط الطعام
برکت کھانے کے درمیان میں نازل ہوتی ہے
حدیث نمبر: 7296
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العدل، قالا: حدثنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن عطاء بن السائب قال: دُعينا إلى طعام، ومَن ثَمَّ؟! ثَمَّ سعيدُ بن جُبير، ثَمَّ مِقسمٌ، ثَمَّ فلان، ثَمَّ فلان، فقال لهم سعيد بن جُبير حين وَضَعُوا الجَفْنَةَ: أكلُّكم قد سمع ما يُقال في الطعام؟ قال مِقسَم: حَدِّثهم، قال: إنَّ ابن عباس حدَّث عن رسول الله ﷺ:"إنَّ البَرَكةَ تَنزِلُ في وَسَطِ الطعام، فكُلُوا من حَافَاتِه ولا تأكُلوا من وَسَطِه" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7118 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7118 - صحيح
عطاء بن السائب فرماتے ہیں: ہمیں ایک دعوت پر بلایا گیا، وہاں پر سعید بن جبیر تھے، مقسم تھے، فلاں، فلاں بھی تھے۔ جب کھانے کا تھال سامنے رکھا تو سعید بن جبیر نے ان سے کہا: کیا تم سب نے سنا ہے کہ کھاتے وقت کیا پڑھتے ہیں؟ مقسم نے کہا: آپ ان کو بتا دیجئے، انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: برکت کھانے کے درمیان نازل ہوتی ہے، اس لئے کھانے کے اطراف سے کھاؤ، درمیان سے مت کھاؤ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7296]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،سفيان: هو ابن عيينة. وأخرجه أحمد 4/ (2139) و (2730)، وأبو داود (3772)، وابن ماجه (3277)، والترمذي (1805)، والنسائي (6729)، وابن حبان (5245) من طرق عن عطاء بن السائب، بهذا الإسناد.»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7296 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح. سفيان: هو ابن عيينة. وأخرجه أحمد 4/ (2139) و (2730)، وأبو داود (3772)، وابن ماجه (3277)، والترمذي (1805)، والنسائي (6729)، وابن حبان (5245) من طرق عن عطاء بن السائب، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں سفیان سے مراد سفیان بن عیینہ ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ، ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے عطاء بن السائب کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7296 in Urdu