🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. لعوق الأصابع بعد الطعام
کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7300
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد، حدثنا مسدَّد، حدثنا إسماعيل ابن عُليَّة، حدثنا محمد بن السائب بن بَرَكة المكي، عن أمِّه، عن عائشة قالت: كان رسولُ الله ﷺ إذا أخذَ أهلَه الوَعْكُ، أمر بالحَسَاءِ فصُنِعَ، ثم يأمرُه فيحسُو منه، وكان يقول:"إنَّه لَيَرْتُو عن فؤاد الحَزين (1) ، ويَسْرُو عن فؤاد السَّقيم، كما تَسْرُو إحداكُنَّ الوسخَ عن وجهِها بالماء" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7122 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو جب کھانسی آتی تو آپ شوربا بنانے کا حکم دیتے، جب وہ بنا لیا جاتا تو آپ اسے پینے کا حکم دیتے اور خود بھی پیتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: یہ بیمار کے دل کو بہت سکون دیتا ہے۔ جیسے تم پانی کے ساتھ اپنے چہرے سے میل کو صاف کر لیتی ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7300]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7300 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في نسخنا الخطية: السقيم، والمثبت من رواية المصنف المكررة برقم (7642)، وهو الموافق لما في مصادر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے پاس موجود قلمی نسخوں میں لفظ "السقیم" درج ہے، لیکن یہاں درست متن وہ ہے جو مصنف (امام حاکم) کی مکرر روایت نمبر (7642) میں موجود ہے، اور یہی دیگر مصادرِ تخریج کے بھی موافق ہے۔
(2) إسناده فيه لِينٌ، أم محمد بن السائب انفرد بالرواية عنها ابنها محمد، وقد صَحَّ الحديث من وجه آخر عن أم المؤمنين عائشة ﵂ بغير هذا اللفظ كما سيأتي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند میں "لین" (کمزوری) پایا جاتا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن السائب کی والدہ سے روایت کرنے میں ان کا بیٹا محمد اکیلا ہے (انفراد)۔ 📝 نوٹ / توضیح: البتہ یہ حدیث ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوسرے الفاظ کے ساتھ "صحیح" ثابت ہے جیسا کہ آگے تفصیل آئے گی۔
وأخرجه أحمد 40/ (24035)، وابن ماجه (3445)، والترمذي (2039)، والنسائي (7529) من طريق إسماعيل ابن علية، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 40/ (24035)، ابن ماجہ نے (3445)، ترمذی نے (2039) اور نسائی نے (7529) میں اسماعیل ابن علیہ (اسماعیل بن ابراہیم) کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اس روایت کو "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
وسيتكرر عند المصنف برقم (7642).
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت مصنف کے ہاں دوبارہ نمبر (7642) پر درج کی جائے گی۔
ويغني عنه ما أخرجه أحمد 41/ (24512)، والبخاري (5417) و (5689)، ومسلم (2216)، والترمذي بإثر (2039) من طريق الزهري، عن عروة بن الزبير، عن عائشة مرفوعًا: "إنّ التلبينة تُجِمُّ فؤاد المريض، وتذهب ببعض الحزن".
🧩 متابعات و شواہد: مذکورہ بالا ضعیف روایت کی جگہ وہ حدیث کافی ہے جسے امام احمد 41/ (24512)، بخاری (5417) و (5689)، مسلم (2216) اور ترمذی نے (2039) کے بعد ابن شہاب زہری عن عروہ بن زبیر عن عائشہ کے طریق سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ: "بے شک تلبینہ مریض کے دل کو سکون دیتا ہے اور غم کے کچھ حصے کو دور کر دیتا ہے"۔
يرتو: يقوي ويشدُّ.
📝 نوٹ / توضیح: لغت میں "یرتو" کا معنی ہے: کسی چیز کو قوت دینا اور اسے مضبوط کرنا۔
يسرو: يكشف عنه الحزن ويزيله.
📝 نوٹ / توضیح: "یسرو" کا مفہوم ہے: غم کو کھول دینا، اسے ظاہر کرنا اور ختم کر دینا۔
التلبينة: حَسَاءٌ يُعمل من دقيق ونحوه، وربما وضع فيه العسل، سُميت بذلك لبياضها ورقتها.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: "التلبینہ" ایک خاص قسم کا دلیہ یا پتلا سالن ہے جو آٹے وغیرہ سے تیار کیا جاتا ہے اور بعض اوقات اس میں شہد بھی ملایا جاتا ہے۔ اسے اس کی سفیدی اور پتلے پن کی وجہ سے "لبن" (دودھ) کی مناسبت سے تلبینہ کہا جاتا ہے۔