🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. لعوق الأصابع بعد الطعام
کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7301
أخبرني الحسين بن علي التميمي، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا أحمد بن حفص (3) ، حدثني أبي، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، عن عبد العزيز بن صُهيب، عن أنس قال: لقد رأيتُ المهاجرين والأنصارَ يَحفِرُون الخندقَ حولَ المدينة، ويَنقُلون الترابَ على ظهورهم يقولون: نحنُ الذين بايَعْنا محمَّدا … على الإسلامِ ما بقِينا أبدا ورسولُ الله ﷺ يُجيبُهم ويقول:"اللهمَّ لا خيرَ إلّا خيرُ الآخرَهْ … فبارِكْ في الأنصارِ والمهاجرَهْ" فيُجاءُ بالصَّحْفة فيها مِلءُ (1) كَفِّي من شعيرٍ مَجشُوشٍ، قد صُنع بإهالَةٍ سَنِخة، فتوضع بين يدي القوم وهم جِياعٌ، ولها بَشَعَةٌ في الحَلْق، ولها رِيح (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7123 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے مہاجرین اور انصار کو دیکھا ہے وہ مدینہ منورہ کے اردگرد خندق کھود رہے تھے، اور اپنی پشت پر لاد کر مٹی منتقل کر رہے تھے۔ اور ساتھ یہ اشعار بھی پڑھ رہے تھے۔ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے تمام زندگی کے لئے اسلام پر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو یوں جواب دے رہے تھے۔ اے اللہ کوئی بھلائی نہیں سوائے آخرت کی بھلائی کے۔ یا اللہ انصار اور مہاجرین کو برکت عطا فرما۔ آپ کے پاس ایک تھال لایا جاتا، اس میں مٹھی بھر خشک جو ہوتے جس کو باسی چربی میں پکایا گیا ہوتا، وہ تمام لوگوں کے سامنے رکھ دیا جاتا، وہ سب لوگ بھوکے ہوتے، بے مزہ ہونے کی وجہ سے وہ حلق میں پھنستا اور عجیب سی بو آ رہی ہوتی تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7301]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7301 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرّف في نسخنا الخطية إلى: جعفر.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمارے پاس موجود قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف (غلطی) کا شکار ہو کر "جعفر" لکھا گیا ہے۔
(1) المثبت من (ز)، وفي (ص) و (م): مثل.
📝 نوٹ / توضیح: متن میں قائم کردہ لفظ نسخہ (ز) سے لیا گیا ہے، جبکہ نسخہ (ص) اور نسخہ (م) میں اس کی جگہ "مثل" کا لفظ موجود ہے۔
(2) إسناده صحيح. محمد بن إسحاق: هو ابن خُزَيمة، وأحمد بن حفص: هو ابن عبد الله بن راشد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن اسحاق سے مراد امام ابن خزیمہ ہیں، اور احمد بن حفص سے مراد احمد بن حفص بن عبد اللہ بن راشد ہیں۔
وأخرجه تامًّا ومختصرًا البخاري (2835) و (4100)، والنسائي (8260) من طريق عبد الوارث بن سعيد، عن عبد العزيز بن صهيب، به. والزيادة في آخره عند البخاري في الموضع الثاني، فاستدراك الحاكم له ذهول منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مکمل اور مختصر شکل میں امام بخاری (2835) و (4100) اور نسائی (8260) نے عبد الوارث بن سعید کے طریق سے عبد العزیز بن صہیب سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: بخاری کی دوسری جگہ پر روایت کے آخر میں وہ اضافہ بھی موجود ہے جس کی بنا پر امام حاکم نے اسے مستدرک کیا ہے، لہذا امام حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کا "ذہول" (بھول) ہے۔
وأخرجه أحمد 21/ (13646) و (14068)، ومسلم (1805) (130)، والنسائي (6602)، وابن حبان (7259) من طريق ثابت البُناني، عن أنس به مختصرًا، إلّا رواية أحمد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 21/ (13646) و (14068)، مسلم (1805/130)، نسائی (6602) اور ابن حبان (7259) نے ثابت بنانی کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ امام احمد کے علاوہ باقی تمام مصادر میں یہ روایت "مختصر" مروی ہے۔
وقصة حفر الخندق والتغني بهذا الشعر رويت عن أنس من عدة طرق، انظرها وتخريجها في "مسند أحمد" عند الحديث (12722).
🧾 تفصیلِ روایت: غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھودنے کا واقعہ اور ان اشعار کا پڑھا جانا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کئی طرق سے مروی ہے؛ اس کی مکمل تخریج کے لیے مسند احمد کی حدیث نمبر (12722) ملاحظہ فرمائیں۔
قوله: "مشجوش" يقال: جَشَّ البُرَّ وأَجَشَّه: إِذا طحنَه طحنًا جليلًا، فهو جَشِيشٌ ومَجشوشٌ.
📝 نوٹ / توضیح: متن میں مذکور لفظ "مشجوش" لغت سے ماخوذ ہے؛ کہا جاتا ہے کہ جب گندم کو موٹا پیسا جائے تو اسے "جشیش" یا "مجشوش" پکارا جاتا ہے۔
والإهالة: كلُّ ما يُؤتدم به من الأدهان، وسَنِخة: زَنِخَة، وزنًا ومعنًى.
📝 نوٹ / توضیح: "الاہالہ" سے مراد وہ تمام تیل یا چکنائیاں ہیں جنہیں سالن (اواد) کے طور پر استعمال کیا جائے، جبکہ "سنخہ" کا معنی بدبودار (زنخہ) ہے، یہ لفظ وزن اور معنی دونوں لحاظ سے ایک ہی ہے۔