🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. النهي عن التكلف للضيف
مہمان کے لیے تکلف (بناوٹ) کرنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7325
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني يحيى بن أيوب، عن عُبيد الله بن زَحْر، عن علي بن يزيد، عن القاسم، عن أبي أُمامة، أنَّ النبي ﷺ قال:"إِنَّ أغبَطَ الناس عندي لَمؤمنٌ خفيفُ الحاذِ، ذو حَظٍّ من الصلاة، أحسَنَ عبادة الله، وأطاعَه (2) في السِّرّ غامضًا في الناس، لا يُشارُ إليه بالأصابع، وكان رِزقُه كَفَافًا، فصَبَرَ على ذلك"، ثم نَفَضَ (1) رسولَ الله ﷺ بإصبعِه وقال:"عُجِّلتْ مَنيَّتُه، وقلَّتْ بَوَاكيهِ، وقلَّ تُراثُه" (2) . هذا إسناد للشاميين صحيح عندهم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7148 - إلى الضعف هو
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے سب سے زیادہ پیارا وہ مومن لگتا ہے جو مختصر سامان رکھتا ہو، نمازیں کثرت سے پڑھتا ہو، اللہ تعالیٰ کی عبادت احسن انداز میں کرتا ہو، تنہائی میں اللہ تعالیٰ کا اطاعت گزار ہو، لوگوں میں نظریں جھکا کر رکھنے والا ہو، لوگ انگلیوں کے ساتھ اس کی جانب اشارے نہ کرتے ہوں (یعنی وہ مشہور و معروف نہ ہو) اس کا رزق پورا پورا ہو، اور وہ اس پر صبر کرے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی ہلاتے ہوئے فرمایا: اس کی موت جلدی آ جائے، اور اس پر رونے والیاں کم ہوں، اور اس کی وراثت تھوڑی ہو۔ ٭٭ یہ اسناد شامیین کی ہے ان کے نزدیک صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأطعمة/حدیث: 7325]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7325 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف جدًّا، عبيد الله بن زحر ضعيف، وعلي بن يزيد - وهو الأَلهاني - واهي الحديث. القاسم: هو ابن عبد الرحمن الشامي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "انتہائی ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عبید اللہ بن زحر ضعیف راوی ہے، اور علی بن یزید (جو کہ الالہانی ہیں) کی حدیث بہت زیادہ کمزور (واہی) ہوتی ہے۔ یہاں مذکور راوی القاسم کا پورا نام "القاسم بن عبدالرحمن الشامی" ہے۔
وأخرجه الترمذي (2347) من طريق عبد الله بن المبارك، عن يحيى بن أيوب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام ترمذی نے (2347) میں عبد اللہ بن المبارک کے طریق سے، انہوں نے یحییٰ بن ایوب سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 36/ (22167) من طريق أبي المهلب مطَّرح بن يزيد، و (22197) من طريق ليث بن أبي سليم، كلاهما عن عبيد الله بن زحر، به. وليس في الطريق الثانية ذكر لعلي بن يزيد الألهاني.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج امام احمد نے "مسند احمد" 36/ (22167) میں ابو المہلب مطرّح بن یزید کے طریق سے، اور (22197) میں لیث بن ابی سلیم کے طریق سے کی ہے، یہ دونوں عبید اللہ بن زحر سے روایت کرتے ہیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: دوسری سند میں علی بن یزید الالہانی کا ذکر موجود نہیں ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (4117) من طريق صدقة بن عبد الله السمين، عن إبراهيم بن مرة، عن أيوب بن سليمان، عن أبي أمامة. وهذا إسناد ضعيف أيضًا، صدقة ضعيف، وأيوب بن سليمان مجهول.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند بھی ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کا راوی صدقہ بن عبد اللہ السمین "ضعیف" ہے، اور ایوب بن سلیمان "مجہول" (نامعلوم) ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ نے (4117) میں صدقہ بن عبد اللہ السمین از ابراہیم بن مرہ از ایوب بن سلیمان از حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وانظر تتمة تخريجه وشواهده في "مسند أحمد" 36/ (22167).
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کی مزید تخریج اور شواہد کی تفصیل کے لیے "مسند احمد" 36/ (22167) ملاحظہ فرمائیں۔