المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الْمَاءُ الْبَارِدُ
بے شک پہلی نعمت جس کا بندے سے حساب لیا جائے گا وہ ٹھنڈا پانی ہے
حدیث نمبر: 7388
حدثنا أحمد بن كامل بن خلف القاضي، حدثنا عبد الله بن رَوْح المَدائني، حدثنا شَبَابة بن سَوَّار، حدثنا أبو زَبْر عبد الله بن العلاء بن زَبْر، حدثنا الضحَّاك بن عبد الرحمن بن عَرْزَب، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ أَولَ ما يُحَاسَبُ به العبدُ يومَ القيامة أن يُقال له: ألم أَصحَّ لك جسمَك، وأَروِكَ من الماء البارد؟" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7203 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7203 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن بندے سے (نعمتوں کے متعلق) سب سے پہلے جو حساب لیا جائے گا وہ یہ ہے کہ اس سے کہا جائے گا: کیا ہم نے تمہارے جسم کو تندرست نہیں رکھا تھا، اور کیا ہم نے تمہیں ٹھنڈے پانی سے سیراب نہیں کیا تھا؟“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7388]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7388]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد، وأخرجه الترمذي (3358) عن عبد بن حميد، عن شبابة بن سوار، بهذا الإسناد. وقال: حديث غريب وأخرجه ابن حبان (7364) من طريق الوليد بن مسلم، عن عبد الله بن العلاء به.» [ترقيم الرساله 7388] [ترقيم الشركة 7299] [ترقيم العلميه 7203]
الحكم على الحديث: إسناده جيد
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7388 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده جيد. وأخرجه الترمذي (3358) عن عبد بن حميد، عن شبابة بن سوار، بهذا الإسناد. وقال: حديث غريب وأخرجه ابن حبان (7364) من طريق الوليد بن مسلم، عن عبد الله بن العلاء به.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "جید" (عمدہ) ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی نے (3358) میں عبد بن حمید سے، انہوں نے شبابہ بن سوار سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا اور اسے "حدیث غریب" کہا۔ ابن حبان نے بھی (7364) میں ولید بن مسلم کے طریق سے، انہوں نے عبداللہ بن العلاء سے اسے روایت کیا ہے۔
وانظر حديث أبي هريرة السالف برقم (7355).
📌 اہم نکتہ: اس سلسلے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث نمبر (7355) ملاحظہ فرمائیں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7388 in Urdu