المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. أمط الإناء عن فيك ثم تنفس
برتن کو اپنے منہ سے ہٹا کر سانس لو
حدیث نمبر: 7394
أخبرنا أبو النَّضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي. وأخبرني عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى البِرْتي؛ قالا: حدثنا القَعْنبي فيما قَرأَ على مالك، عن أيوب بن حبيب مولى بني زُهرة، عن أبي المثنَّى الجُهَني قال: كنتُ جالسًا عند مروانَ بن الحَكَم، فدخل أبو سعيد الخُدْري، فقال له مروان: سمعتَ رسولَ الله ﷺ ينهى عن النَّفخ في الشراب؟ قال: نعم، فقال له (1) رجلٌ: إني لا أروَى بنَفَس واحد! قال:"أَمِطِ الإناءَ عن فيكَ، ثم تَنفَّسْ"، قال: فإن رأيتُ قذًى؟ قال:"أَهرِقْه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7208 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7208 - صحيح
ابوالمثنیٰ جہنی فرماتے ہیں: میں مروان بن حکم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، مروان نے ان سے کہا: یا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کی چیز میں پھونکنے سے منع کیا ہے؟ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں۔ ایک آدمی بولا: میں ایک سانس میں سیر نہیں ہو پاتا۔ آپ نے فرمایا: برتن اپنے منہ سے ہٹا کر سانس لے سکتے ہو۔ اس نے کہا: اگر ہمیں اس میں کوئی ناپسندیدہ چیز دکھائی دے تو؟ انہوں نے فرمایا: تو تم وہ پانی گرا دو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7394]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7394 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) أي: لرسول الله ﷺ، كما وقع صريحًا في موطأ مالك" 2/ 925، وبعض مصادر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: یعنی "رسول اللہ ﷺ کے لیے"، جیسا کہ امام مالک کی "موطا" 2/ 925 اور دیگر مصادرِ تخریج میں صراحت کے ساتھ موجود ہے۔
(2) إسناده قوي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "قوی" (مضبوط) ہے۔
وأخرجه أحمد 17 / (11203) و (11279) و 18 / (11541) و (11654) و (11760)، والترمذي، (1887)، وابن حبان (5327) من طرق عن مالك بن أنس، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "مسند" 17 / (11203)، (11279) اور 18 / (11541)، (11654)، (11760) میں، امام ترمذی نے "سنن" (1887) میں، اور ابن حبان نے (5327) میں امام مالک بن انس کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اس روایت کو "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 18/ (11760)، وأبو داود (3722)، وابن حبان (5315) من طريق عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن أبي سعيد، بلفظ: نهى رسول الله ﷺ عن الشرب من ثُلمة القَدَح، وأن ينفخ في الشراب. وسنده حسن في المتابعات والشواهد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 18/ (11760) میں، امام ابو داؤد نے "سنن" (3722) میں، اور ابن حبان نے (5315) میں عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ کے طریق سے، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: "رسول اللہ ﷺ نے پیالے کے ٹوٹے ہوئے کنارے سے پینے اور مشروب میں پھونک مارنے سے منع فرمایا"۔ ⚖️ درجۂ حدیث: متابعات اور شواہد کے اعتبار سے اس کی سند "حسن" ہے۔