🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. أمط الإناء عن فيك ثم تنفس
برتن کو اپنے منہ سے ہٹا کر سانس لو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7395
أخبرنا أبو العباس السَّيّاري، حدثنا إبراهيم بن هلال، أخبرنا علي بن الحسن بن شَقيق، أخبرنا الحسين بن واقد حدثني أبو نَهِيك، قال: سمعتُ عمرو بن أَخطَب قال: استسقى النبيُّ ﷺ، فأتيتُه بماء، فكانت فيه شعرةٌ فأخذتُها، فقال النبيَّ ﷺ:"اللَّهم جمِّلْه". قال: فرأيتُه وهو ابن أربعٍ وتسعينَ سنةً وما في رأسِه طاقةٌ بيضاءُ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7209 - صحيح
سیدنا عمرو بن احطب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی لایا، اس میں ایک بال تھا، میں نے وہ بال نکال دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یوں دعا دی اے اللہ! اس کو حسین کر دے (ابونہیک) فرماتے ہیں: میں نے ان کو دیکھا ہے، ان کی عمر 94 سال ہو گئی تھی، اور ان کے سر کا ایک بال بھی سفید نہیں تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7395]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7395 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي نهيك: وهو عثمان بن نهيك الأزدي، ومثله إبراهيم بن هلال، لكنه قد توبع وقد سلفت ترجمته برقم (420). وأخرجه أحمد 37/ (22883)، وكذا ابن حبان (7172) من طريق أحمد بن منصور، كلاهما (ابن حنبل وابن منصور) عن علي بن الحسن بن شقيق بهذا الإسناد وعندهما ابن ثلاث وتسعين سنة.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "حدیث صحیح" ہے، البتہ اس کی یہ سند ابو نہیک (جو کہ عثمان بن نہیک الازدی ہیں) اور ان جیسے راوی ابراہیم بن ہلال کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: تاہم ان راویوں کی متابعت موجود ہے اور ان کا ترجمہ پہلے نمبر (420) پر گزر چکا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 37/ (22883) میں اور ابن حبان نے (7172) میں احمد بن منصور کے طریق سے روایت کیا ہے؛ یہ دونوں (امام احمد اور ابن منصور) علی بن الحسن بن شقیق سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں، اور ان کی روایت میں راوی کی عمر "ترانوے (93) سال" مذکور ہے۔
وأخرجه أحمد (22881)، وابن حبان (7172) من طريقين عن حسين بن واقد به وعند ابن حبان وحده: ابن ثلاث وتسعين.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (22881) میں اور ابن حبان نے (7172) میں حسین بن واقد کے دو طرق سے روایت کیا ہے، جبکہ صرف ابن حبان کی روایت میں "ترانوے (93) سال" (کی عمر) کا اضافہ موجود ہے۔
وأخرج أحمد (22885)، وابن حبان (7170) من طريق أنس بن سِيرِين، عن أبي زيد بن أخطب قال: قال لي رسول الله ﷺ: "جمَّلك الله". قال أنس: وكان رجلًا جميلًا حسنَ الشَّمَط.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (22885) میں اور ابن حبان نے (7170) میں انس بن سیرین کے طریق سے، انہوں نے حضرت ابو زید بن اخطب سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: "اللہ تمہیں صاحبِ جمال بنائے"۔ 📝 نوٹ / توضیح: انس بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ وہ (ابو زید) ایک نہایت خوبصورت شخص تھے اور ان کے بڑھاپے کی سفیدی بھی بہت پرکشش تھی۔
وأخرج أحمد 34/ (20733)، والترمذي (3629)، وابن حبان (7171) من طريق عَلباء بن أحمد، عن أبي زيد قال: قال لي رسول الله ﷺ: "ادنُ مني" قال: فمسح بيده على رأسه ولحيته، ثم قال: "اللهم جمِّله، وأَدِم جماله". قال: فلقد بلغ بضعًا ومئة سنة وما في رأسه ولحيته بياض إلَّا نبذ يسير، ولقد كان منبسط الوجه، ولم ينقبض وجهه حتى مات. وسنده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 34/ (20733) میں، امام ترمذی نے "سنن" (3629) میں، اور ابن حبان نے (7171) میں علباء بن احمد کے طریق سے، انہوں نے حضرت ابو زید سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: "میرے قریب آؤ"، پھر آپ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک ان کے سر اور داڑھی پر پھیرا اور دعا فرمائی: "اے اللہ! اسے خوبصورت بنا دے اور اس کا حسن برقرار رکھ"۔ 📝 نوٹ / توضیح: راوی کہتے ہیں کہ وہ سو (100) سال سے زائد عمر کو پہنچ گئے مگر ان کے سر اور داڑھی میں چند بالوں کے سوا سفیدی نہیں آئی تھی، وہ ہمیشہ ہشاش بشاش چہرے والے رہے اور وفات تک ان کے چہرے کی رونق برقرار رہی۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔