المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. ذكر أحاديث تحريم الخمر
شراب کی حرمت سے متعلق احادیث کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7405
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ببغداد، حدثنا محمد بن الفَرَج، حدثنا حجّاج بن محمد، حدثنا رَبيعة بن كلثوم، عن أبيه كُلثوم بن جَبْر، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: نزلَ تحريمُ الخمرِ في قبيلتين من قبائل الأنصار شَرِبوا، حتى إذا ثَمِلُوا عَبِثَ بعضُهم ببعض، فلما صَحَوا جعل الرجلُ يرى الأثرَ بوجهِه وبرأسِه ولحيتِه، فيقول: فَعَلَ بي هذا أخي فلانٌ، والله لو كان بي رؤوفًا رحيمًا ما فعل هذا بي، قال: وكانوا إخوةً ليس في قلوبهم ضغائنُ، فوقعت في قلوبهم الضغائنُ، فأنزل الله ﷿: ﴿إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ﴾ إلى قوله: ﴿فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ﴾ [المائدة: 90] ، فقال ناسٌ من المتكلِّفين هي رجسٌ، وهي في بطن فلانٍ قُتِلَ يومَ بدر، وفلانٍ قُتِلَ يومَ أُحد، فأنزل الله ﷿: ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾ حتى بلغ: ﴿وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾ [المائدة: 93] (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7219 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7219 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: شراب کی حرمت دو انصار کے دو قبیلوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ انہوں نے شراب پی، جب ان کو نشہ چڑھ گیا تو ایک دوسرے پر بے ہودہ گفتگو کرنے لگے، جب ان کا نشہ اترا تو انہوں نے اپنے چہرے، اپنے سر اور داڑھیوں کو دیکھا، ان میں اس کا اثر موجود تھا، وہ ایک دوسرے پر الزام دیتے ہوئے کہنے لگے: یہ فلاں آدمی نے میرے ساتھ کیا ہے۔ اللہ کی قسم! اگر اس کو میرے ساتھ کوئی ہمدردی ہوتی تو میرے ساتھ ایسا نہ کرتا۔ وہ لوگ پہلے بھائیوں کی طرح رہتے تھے، ان کے دل میں کسی قسم کی کوئی میل نہیں تھی، لیکن اس شراب کی وجہ سے ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے بارے میں میل آ گئی، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ (المائدہ: 90، 91) ” اے ایمان والو شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے “ کچھ لوگوں نے کہا: یہ تو ناپاک ہے اور فلاں آدمی جنگ بدر میں قتل ہوا ہے، اس کے پیٹ میں یہ ناپاک چیز موجود تھی، فلاں آدمی جنگ احد میں قتل ہوا ہے اس کے پیٹ میں بھی یہ موجود تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی۔ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسَنُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (المائدہ: 93) ” جو ایمان لائے اور نیک کام کئے ان پر کچھ گناہ نہیں جو کچھ انہوں نے چکھا جب کہ ڈریں اور ایمان رکھیں اور نیکیاں کریں پھر ڈریں اور ایمان رکھیں پھر ڈریں اور نیک رہیں اور اللہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأشربة/حدیث: 7405]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7405 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث قوي، محمد بن الفرج وهو ابن محمود البغدادي الأزرق - صدوق حسن الحديث، وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "حدیث قوی" (مضبوط) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن الفرج (جو کہ ابن محمود البغدادی الازرق ہیں) صدوق اور حسن الحدیث ہیں، اور ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
وأخرجه النسائي (11086) عن محمد بن عبد الرحيم عن حجاج بن المنهال، عن ربيعة بن كلثوم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے (11086) میں محمد بن عبدالرحیم کے طریق سے، انہوں نے حجاج بن المنہال سے اور انہوں نے ربیعہ بن کلثوم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر حديث ابن عباس الآتي برقم (7411).
📌 اہم نکتہ: اس حوالے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی آنے والی حدیث نمبر (7411) ملاحظہ فرمائیں۔