المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
26. لَا يَشْبَعُ الرَّجُلُ دُونَ جَارِهِ
آدمی اپنے پڑوسی کو چھوڑ کر (اکیلے) پیٹ بھر کر نہ کھائے
حدیث نمبر: 7495
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعيّ، حدّثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبيّ، حدّثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن أبيه عن عَبَاية بن رِفاعة، قال: بلغ عمرَ أنَّ سعدًا لمّا بنى القصرَ قال: انقطَعَ الصُّوَيت (1) ، فبعث إليه محمدَ بن مَسلَمة … الحديث، وقال في آخره قال عمر: إنِّي كرهتُ أن آمرَ لك، فيكون لك الباردُ وليَ الحارُّ، وحولي أهلُ المدينة قد قتلهم الجوعُ، وقد سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا يَشبَعُ الرجلُ دون جارِه" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7308 - سنده جيد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7308 - سنده جيد
سیدنا عبایہ بن رفاعہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی کہ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے محل تعمیر کیا تو کہا: ”اب (عام لوگوں کا) شور و غل «الصُّوَيت» منقطع ہو گیا“، تو انہوں نے ان کی طرف محمد بن مسلمہ کو بھیجا... اور اس کے آخر میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ میں تمہیں (ایسا) حکم دوں جس میں تمہارے لیے تو آسانی ہو اور میرے لیے تنگی، حالانکہ میرے ارد گرد اہل مدینہ کو بھوک نے نڈھال کر رکھا ہے، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”آدمی اپنے پڑوسی کو چھوڑ کر اکیلا سیر نہیں ہوتا“۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7495]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، لكن رواية عباية بن رفاعة عن عمر مرسلة كما قال أبو زرعة» [ترقيم الرساله 7495] [ترقيم الشركة 7404] [ترقيم العلميه 7308]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7495 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ص) و (م): الصوت.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) اور (م) میں (یہاں) "الصوت" کا لفظ ہے۔
(2) رجاله ثقات، لكن رواية عباية بن رفاعة عن عمر مرسلة كما قال أبو زرعة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں، لیکن عبایہ بن رفاعہ کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت "مرسل" ہے (منقطع ہے)، جیسا کہ ابو زرعہ نے کہا ہے۔
وهو في "مسند أحمد" 1/ (390). وانظر تتمة تخريجه والكلام عليه هناك.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "مسند احمد" (1/ 390) میں موجود ہے۔ اس کی مکمل تخریج اور کلام وہاں ملاحظہ کریں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7495 in Urdu