المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
26. لَا يَشْبَعُ الرَّجُلُ دُونَ جَارِهِ
آدمی اپنے پڑوسی کو چھوڑ کر (اکیلے) پیٹ بھر کر نہ کھائے
حدیث نمبر: 7494
حدّثنا يحيى بن منصور القاضيّ، حدّثنا أحمد بن سَلَمة، حدّثنا محمد بن المثنّى، حدّثنا أبو أحمد الزُّبيريّ، حدّثنا سفيان، عن عبد الملك بن أبي بَشير، عن عبد الله بن أبي المُساوِر، قال: سمعت ابنَ عباس وهو يُبخِّل ابنَ الزُّبير ويقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ليس المؤمنُ الذي يَبيتُ وجارُه إلى جنبِه جائعٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهده حديث عمر مع سعد لمّا بنى القصرَ الذيّ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7307 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهده حديث عمر مع سعد لمّا بنى القصرَ الذيّ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7307 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص (کامل) مومن نہیں ہے جو اس حال میں رات گزارے کہ اس کے پہلو میں اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس کی شاہد وہ حدیث ہے جس میں سیدنا سعد کے محل بنانے کا اور سیدنا عمر کی گفتگو کا ذکر ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7494]
حدیث نمبر: 7495
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعيّ، حدّثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبيّ، حدّثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن أبيه عن عَبَاية بن رِفاعة، قال: بلغ عمرَ أنَّ سعدًا لمّا بنى القصرَ قال: انقطَعَ الصُّوَيت (1) ، فبعث إليه محمدَ بن مَسلَمة … الحديث، وقال في آخره قال عمر: إنِّي كرهتُ أن آمرَ لك، فيكون لك الباردُ وليَ الحارُّ، وحولي أهلُ المدينة قد قتلهم الجوعُ، وقد سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا يَشبَعُ الرجلُ دون جارِه" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7308 - سنده جيد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7308 - سنده جيد
سیدنا عبایہ بن رفاعہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی کہ جب سیدنا سعد نے محل بنوایا تو فرمایا: آواز ختم ہو گئی ہے۔ پھر ان کی جانب محمد بن مسلمہ کو بھیجا۔ اس کے بعد پوری حدیث بیان کی، اس کے آخر میں ہے ” سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے یہ بات اچھی نہ لگی کہ میں تجھے حکم دوں اور تیرے لئے ٹھنڈا ہو اور میرے لئے گرم۔ اور میرے اردگرد مدینہ والے ہیں، وہ بھوک سے مر رہے ہیں، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آدمی اپنے پڑوسی کے بغیر شکم سیر نہیں ہو سکتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7495]
حدیث نمبر: 7496
أخبرنا أحمد بن يعقوب الثقفيّ، حدّثنا موسى بن هارون، حدّثنا أبو الربيع الزَّهْرانيّ، حدّثنا جعفر بن سليمان، عن أبي عِمران الجَوْنيّ، عن يزيد بن بابَنُوس، عن عائشة قالت: قلت: يا رسول الله، إنَّ لي جارَينِ بأيِّهما أبدأُ؟ قال:"بأقرَبِهما منكِ بابًا" (3) . هكذا يرويه جعفر بن سليمان عن أبي عمران الجَونيّ، والصحيحُ رواية شُعبة:
7496 - یزید بن بابنوس حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے روایت کرتی ہیں کہ: میں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میرے دو پڑوسی ہیں، میں (تحفہ یا خیرات دینے میں) کس سے ابتدا کروں؟" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو"۔ جعفر بن سلیمان اسے ابو عمران جونی سے اسی طرح روایت کرتے ہیں، جبکہ صحیح (روایت) شعبہ کی ہے (جو آگے آ رہی ہے): [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7496]
حدیث نمبر: 7497
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا إبراهيم بن مرزوق، حدّثنا وهب بن جَرير، عن شُعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر، حدّثنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدَّثني أبيّ، حدّثنا محمد بن جعفر، عن شُعْبة (1) ، عن أبي عِمران الجَوْنيّ، عن طلحة بن عبد الله، رجل من بني تَيْم الله، عن عائشة قالت: قلتُ: يا رسولَ الله، إِنَّ لي جارَينِ، فإلى أيِّهما أُهدي؟ قال:"إلى أقرَبِهما منكِ بابًا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ طلحة بن عبد الله بن عَوف (3) ممَّن اتَّفقا على إخراجه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7309 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فإنَّ طلحة بن عبد الله بن عَوف (3) ممَّن اتَّفقا على إخراجه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7309 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے دو پڑوسی ہیں، میں ان میں سے کس سے (حسن سلوک کا) آغاز کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا دروازہ تمہارے دروازے کے زیادہ قریب ہے۔ ٭٭ یہ حدیث اسی طرح جعفر بن سلیمان کے واسطے سے ابوعمران جونی سے بھی مروی ہے۔ جبکہ شعبہ نے ابوعمران جونی، پھر طلحہ بن عبداللہ جو کہ بنی تیم اللہ کا ایک شخص تھا، کے واسطے سے ام المومنین سیدہ عائشہ سے روایت کیا ہے، آپ فرماتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے دو پڑوسی ہیں، میں ان میں سے کس کی جانب تحفہ بھیجا کروں؟ فرمایا: جس کا دروازہ تمہارے دروازے کے زیادہ قریب ہے۔ ٭٭ یہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے، طلحہ بن عبداللہ بن عوف ان راویوں میں سے ہیں جن کی مرویات امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی نقل کی ہیں اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ/حدیث: 7497]