المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
35. أيما امرأة ماتت وزوجها عنها راض دخلت الجنة
جو عورت اس حال میں فوت ہو کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو، وہ جنت میں داخل ہوگی
حدیث نمبر: 7519
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا حُميد بن عيّاش الرَّمْلي، حدّثنا مُؤمَّل بن إسماعيل، حدّثنا سفيان عن الأعمش، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن أبي أُمامة قال: أبصر النبيُّ ﷺ امرأةً معها صبيّتانِ قد حَمَلَتْ إحداهما، وهي تقودُ الأخرى، فقال رسول الله ﷺ:"والداتٌ حاملاتٌ رَحيماتٌ، لولا ما يأتِينَ إلى أزواجهنَّ لَدَخَلَ مُصلِّياتُهنَّ الجنَّةَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد أعضلَه شعبةُ عن الأعمش (2) :
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7331 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد أعضلَه شعبةُ عن الأعمش (2) :
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7331 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا، اس کے پاس دو بچے تھے، ایک کو اس نے گود میں اٹھایا ہوا تھا اور دوسرے کو ساتھ ساتھ چلا رہی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مائیں، بردبار اور رحمدل ہوتی ہیں، اگر ان میں شوہر کی نافرمانی نہ ہو تو سب عبادت گزار عورتیں جنت میں جائیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ جبکہ شعبہ نے اس کو اعمش سے روایت کرنے میں معطل رکھا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب البر والصلة/حدیث: 7519]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7519 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لانقطاعه، فقد صرّح سالم بن أبي الجعد بعدم سماعه لهذا الحديث من أبي أمامة عند أحمد في "مسنده" 36/ (22173)، وعند المصنّف في الرواية التالية حيث قال: ذُكر لي عن أبي أمامة. وإليه أشار المصنّف بقوله: أعضله شعبة، وسأل الترمذيّ - كما في "العلل الكبير" ص 386 - البخاريّ: سالم بن أبي الجعد سمع من أبي أمامة؟ فقال: ما أرى. قلنا: ومؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ. سفيان: هو الثَّوري.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی اسناد انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے، 🔍 فنی نکتہ / علّت: کیونکہ سالم بن ابی الجعد نے مسند احمد 36/ (22173) میں اس حدیث کے ابو امامہ سے سماع کی نفی کی تصریح کی ہے، اور مصنف کے ہاں اگلی روایت میں بھی انہوں نے کہا: "مجھے ابو امامہ کے حوالے سے ذکر کیا گیا"۔ مصنف نے اپنے اس قول سے اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ "اسے شعبہ نے معضل (منقطع) قرار دیا ہے"۔ امام ترمذی نے (جیسا کہ "العلل الکبیر" ص 386 میں ہے) امام بخاری سے پوچھا: کیا سالم بن ابی الجعد نے ابو امامہ سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میرا یہ خیال نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں: مومل بن اسماعیل کا حافظہ خراب ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: سفیان سے مراد ثوری ہیں۔
وأخرجه ابن ماجه (2013) عن محمد بن بشار، عن مؤمَّل بن إسماعيل، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2013) نے محمد بن بشار سے، انہوں نے مومل بن اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(2) كذا وقع في النسخ الخطية، وهو سبق قلم، والصواب عن منصور - وهو ابن المعتمر - كما في الرواية التي ساقها المصنّف بعدها ليدلّل على إعضال شعبة للحديث.
📝 نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں ایسا ہی لکھا گیا ہے جو کہ سبقتِ قلم (لکھنے کی غلطی) ہے، درست "عن منصور" ہے (جو کہ ابن معتمر ہیں)، جیسا کہ اس روایت میں ہے جو مصنف اس کے بعد لائے ہیں تاکہ حدیث کے بارے میں شعبہ کے (اسے) معضل قرار دینے پر دلیل دے سکیں۔