🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. أول ما رآه النبى من النبوة أن قيل له استتر
نبوت کی ابتدائی علامات میں سے یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ سے کہا گیا کہ خود کو ڈھانپ لیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7544
أخبرَناه محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعانيّ، حدّثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، أبي الطُّفيل قال: لما بُنيَ البيتُ كان الناسُ يَنقُلُون الحجارةَ والنبيُّ ﷺ يَنقُلُ معهم، فأخذ الثوبَ ووضعه على عاتقه، فنُودي: لا تَكشِفْ عورتَك، فألقى الحَجَر ولَبِسَ ثوبَه (1) . و
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7357 - صحيح
ابوالطفیل فرماتے ہیں: جب بیت اللہ کی تعمیر ہو رہی تھی، لوگ اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ہمراہ پتھر لا رہے تھے، آپ نے اپنا دامن سمیٹ کر اپنے کندھے پر رکھ لیا (تاکہ ان کے اوپر پتھر باآسانی لے جائے جا سکیں)، اسی وقت (ہاتف غیبی سے) آواز آئی اپنا ستر مت ظاہر ہونے دو (یہ آواز سنتے ہی) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر پھینک دیئے اور کپڑے پہن لیے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7544]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7544 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي، من أجل عبد الله بن عثمان بن خثيم، وهذا الحديث من مراسيل الصحابة، لأنَّ أبا الطفيل - واسمه عامر بن واثلة - لم يدرك زمن بناء الكعبة.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند عبد اللہ بن عثمان بن خثیم کی وجہ سے قوی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ حدیث "مراسیلِ صحابہ" میں سے ہے، کیونکہ ابو طفیل (جن کا نام عامر بن واثلہ ہے) نے کعبہ کی تعمیر کا زمانہ نہیں پایا۔
وأخرجه أحمد 39/ (23794) عن عبد الرزاق الصنعانيّ، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے احمد (39/ 23794) نے عبد الرزاق صنعانی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔