المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. أول ما رآه النبى من النبوة أن قيل له استتر
نبوت کی ابتدائی علامات میں سے یہ تھا کہ نبی کریم ﷺ سے کہا گیا کہ خود کو ڈھانپ لیں
حدیث نمبر: 7544
أخبرَناه محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعانيّ، حدّثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، أبي الطُّفيل قال: لما بُنيَ البيتُ كان الناسُ يَنقُلُون الحجارةَ والنبيُّ ﷺ يَنقُلُ معهم، فأخذ الثوبَ ووضعه على عاتقه، فنُودي: لا تَكشِفْ عورتَك، فألقى الحَجَر ولَبِسَ ثوبَه (1) . و
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7357 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7357 - صحيح
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بیت اللہ کی تعمیر ہو رہی تھی تو لوگ پتھر اٹھا کر لا رہے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ پتھر لا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لیا (تاکہ پتھر کی رگڑ سے بچ سکیں)، تو غیب سے آواز دی گئی: اپنا ستر برہنہ نہ کرو، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر پھینک دیا اور اپنا کپڑا پہن لیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7544]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7544]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل عبد الله بن عثمان بن خثيم، وهذا الحديث من مراسيل الصحابة، لأنَّ أبا الطفيل» [ترقيم الرساله 7544] [ترقيم الشركة 7453] [ترقيم العلميه 7357]
الحكم على الحديث: إسناده قوي
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7544 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي، من أجل عبد الله بن عثمان بن خثيم، وهذا الحديث من مراسيل الصحابة، لأنَّ أبا الطفيل - واسمه عامر بن واثلة - لم يدرك زمن بناء الكعبة.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند عبد اللہ بن عثمان بن خثیم کی وجہ سے قوی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ حدیث "مراسیلِ صحابہ" میں سے ہے، کیونکہ ابو طفیل (جن کا نام عامر بن واثلہ ہے) نے کعبہ کی تعمیر کا زمانہ نہیں پایا۔
وأخرجه أحمد 39/ (23794) عن عبد الرزاق الصنعانيّ، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے احمد (39/ 23794) نے عبد الرزاق صنعانی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7544 in Urdu