🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. البسوا من ثياب البياض وكفنوا موتاكم
سفید کپڑے پہنا کرو اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7565
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرّبيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا يحيى بن سُلَيم، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"خيرُ ثِيابِكم البياضُ، فأَلْبِسوها أحياءَكم، وكَفِّنوا فيها موتاكم، وإنَّ من خيرِ أكحالِكم الإثمِدَ، إنه يَجْلُو البصرَ ويُنبِتُ الشَّعرَ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأما حديث سَمُرة بن جُندُب، فقد قدّمتُ الخلاف فيه على حديث أبي قِلابة، وله إسناد صحيح على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7378 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہترین کپڑا سفید ہے، زندہ لوگ بھی سفید کپڑے پہنیں اور اپنے فوت شدگان کو کفن بھی سفید کپڑوں میں ہی دیا کرو۔ بہترین سرمہ اثمد ہے۔ یہ بینائی کو تیز کرتا ہے اور بال گھنے کرتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کے بارے میں اختلاف کو میں نے ابوقلابہ والی حدیث سے پہلے بیان کیا ہے۔ اس کی اسناد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7565]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7565 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن سليم - وهو الطائفي - وقد توبع، وقد سلف الشطر الأول من طريقه ومن طريق المسعودي عن ابن خثيم برقم (1324).
⚖️ درجۂ حدیث: (3) یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے اور یہ سند یحییٰ بن سلیم (طائفی) کی وجہ سے حسن ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اس کا پہلا حصہ انہی کے طریق سے اور مسعودی کے طریق سے ابن خثیم سے نمبر (1324) پر گزر چکا ہے۔
وأخرج شطره الثاني النسائي (9344) من طريق داود العطار، عن عبد الله بن عثمان، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس کا دوسرا حصہ نسائی (9344) نے داود عطار کے طریق سے، انہوں نے عبد اللہ بن عثمان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه مجموعًا مع الحديث السالف عند المصنّف برقم (1324) من طرق عن ابن خثيم أيضًا: أحمد 4/ (2219) و (2479) و 5/ (3035) و (3426)، وأبو داود (3878)، وابن حبان (5423). وإسناده قوي من أجل ابن خثيم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مصنف کے ہاں پچھلی حدیث نمبر (1324) کے ساتھ ملا کر ابن خثیم سے مختلف طرق کے ساتھ روایت کیا گیا ہے: احمد (4/ 2219، 2479، 5/ 3035، 3426)، ابوداؤد (3878) اور ابن حبان (5423)۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور اس کی سند ابن خثیم کی وجہ سے قوی ہے۔
وسيأتي الشطر الثاني برقم (8452) من طريق سفيان الثَّوري عن ابن خثيم. وأخرجه كذلك الترمذي (1757) و (2048) من طريق عباد بن منصور، عن عكرمة، عن ابن عباس. وفيه زيادة، وحسّنه الترمذي، وعباد بن منصور ضعيف.
📝 نوٹ / توضیح: دوسرا حصہ نمبر (8452) پر سفیان ثوری کے طریق سے ابن خثیم سے آئے گا۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی طرح ترمذی (1757، 2048) نے عباد بن منصور کے طریق سے، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے ابن عباس سے روایت کیا ہے، اس میں کچھ اضافہ ہے۔ امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے، حالانکہ عباد بن منصور ضعیف ہیں۔
ويشهد له حديث ابن عمر الآتي عند المصنّف برقم (7650)، وإسناده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید (شاہد) ابن عمر کی حدیث کرتی ہے جو مصنف کے ہاں نمبر (7650) پر آ رہی ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔
وحديث جابر عند ابن ماجه (3496)، وإسناده حسن في المتابعات والشواهد.
🧩 متابعات و شواہد: اور جابر کی حدیث جو ابن ماجہ (3496) میں ہے، اس کی سند متابعات اور شواہد میں حسن ہے۔