المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. غسل يوم الجمعة ومس الطيب فيه
جمعہ کے دن غسل کرنے اور خوشبو لگانے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7581
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الرَّبيع بن سليمان، حَدَّثَنَا عبد الله بن وهب، أخبرنا سليمان بن بلال، عن عمرو بن أبي عمرو مولى المطَّلِب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رجلينِ من أهل العراق أتياه، فسألاه عن الغُسل في يوم الجمعة: أَواجبٌ هو؛ فقال لهما ابن عباس: مَن اغتسلَ فهو أحسنُ وأطهرُ، وسأخبرُكم لماذا بدأ الغُسلُ، كان الناسُ في عهد رسول الله ﷺ مُحتاجِينَ يَلْبَسُون الصُّوفَ ويَسقُونَ النَّخلَ على ظُهورهم، وكان المسجدُ ضيِّقًا مُقارِبَ (3) السَّقف، فخرج رسولُ الله ﷺ يومَ الجمعة في يومٍ صائفٍ شديدِ الحرِّ، ومنبرُه قصير، إنما هو [ثلاث] (4) دَرَجات، فخطب الناسَ فَعَرِقَ الناسُ في الصُّوف، فثارَتْ أبدانُهم (5) ريحَ العَرَق والصوفِ حتَّى كان (6) يُؤذِي بعضُهم بعضًا، حتَّى بلغت أرواحُهم رسولَ الله ﷺ وهو على المنبر، فقال:"أيُّها الناسُ، إذا كان هذا اليوم فاغتَسِلُوا، وليَمَسَّ أحدُكم أطيَبَ ما يَجِدُ من طِيبِه أو دُهْنِه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7394 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7394 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں مروی ہے کہ: دو عراقی شخص ان کے پاس آئے، اور ان سے جمعہ کے غسل کے بارے میں دریافت کیا کہ یہ غسل واجب ہے یا نہیں؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جس نے غسل کیا اور اس نے صفائی حاصل کی، اس نے بہت اچھا کام کیا، (اور جس نے غسل نہ کیا، اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہے، پھر فرمایا) میں تمہیں بتاتا ہوں کہ جمعہ کا غسل کیسے شروع ہوا۔ اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ غریب ہوتے تھے، اون کے کپڑے پہنتے تھے، اپنی پیٹھ پر کھجوریں لادتے تھے، مسجد تنگ تھی، اس کی چھت بہت نیچی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر شریف چھوٹا سا تھا، اس کی چند سیڑھیاں تھیں، ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سخت گرمی کے دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے لیے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کا خطبہ دیا، لوگوں کو پسینہ آ رہا تھا، پسینے اور اون کی بدبو سے ان کی طبیعتیں خراب ہو رہی تھیں، حتیٰ کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے تکلیف ہونے لگی، بلکہ یہ بدبو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک بھی پہنچ گئی، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر جلوہ گر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! جب یہ دن آئے تو غسل کر لیا کرو، جس کے پاس کوئی خوشبو یا تیل وغیرہ ہو، وہ لگا لیا کرے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7581]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7581 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) في النسخ الخطية: يقارب، والمثبت من مكرَّره برقم (1050).
📝 نوٹ / توضیح: (3) قلمی نسخوں میں "یقارب" ہے، اور جو یہاں ثابت (درست) کیا گیا ہے وہ اس کی مکرر حدیث نمبر (1050) سے لیا گیا ہے۔
(4) زيادة مكررة.
📝 نوٹ / توضیح: (4) یہ زیادتی (الفاظ کا اضافہ) مکرر ہے۔
(5) في النسخ الخطية: أرواحهم، والمثبت من مكرره، وهو الأوجه.
📝 نوٹ / توضیح: (5) قلمی نسخوں میں "ارواحہم" ہے، جبکہ جو یہاں ثابت کیا گیا ہے وہ اس کی مکرر حدیث سے لیا گیا ہے اور وہی زیادہ مناسب ہے۔
(6) في (ز): كاد.
📝 نوٹ / توضیح: (6) نسخہ (ز) میں "کاد" ہے۔
(1) إسناده جيد. وهو مكرر (1050).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند جید ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اور یہ نمبر (1050) پر مکرر ہے۔