المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَمَسُّ الطِّيبِ فِيهِ
جمعہ کے دن غسل کرنے اور خوشبو لگانے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7583
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل، حَدَّثَنَا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا زيد بن الحُبَاب، أخبرنا الحسين بن واقد، حدثني عبد الله بن بُرَيدة، عن أبيه، قال: كان رسولُ الله ﷺ يَخطُبُ، فأقبل الحسنُ والحسينُ عليهما قميصان أحمران، فجعلا يَعثُرانِ ويقومانِ، فنزل فأخذَهما فوَضَعَهما بين يديه، قال:"صدق اللهُ ورسولُه: ﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾ [التغابن: 15] ، رأيتُ هذَينِ فلم أصبِرْ"، ثم أَخذ في خُطبتِه (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7396 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7396 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اسی اثنا میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہما تشریف لائے، وہ دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے تھے اور (چلتے ہوئے) لڑکھڑا کر گرتے اور سنبھلتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے، انہیں اٹھایا اور اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے: ﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾ ”بے شک تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں۔“ [سورة التغابن: 15] میں نے ان دونوں کو دیکھا تو مجھ سے صبر نہ ہو سکا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خطبہ شروع فرمایا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7583]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7583]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، رجاله لا بأس بهم» [ترقيم الرساله 7583] [ترقيم الشركة 7492] [ترقيم العلميه 7396]
الحكم على الحديث:
إسناده قوي
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7583 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده قوي، رجاله لا بأس بهم.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس کی سند قوی ہے، اور اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہم)۔
وأخرجه أحمد 38/ (22995)، وأبو داود (1109)، وابن ماجه (3600)، وابن حبان (6038) من طريق زيد بن الحباب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج احمد (38/ 22995)، ابوداؤد (1109)، ابن ماجہ (3600) اور ابن حبان (6038) نے زید بن حباب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔
وانظر ما سلف برقم (1071).
📝 نوٹ / توضیح: اور جو نمبر (1071) پر گزر چکا ہے اسے ملاحظہ کریں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7583 in Urdu