🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. من كان يؤمن بالله فلا يلبسن حريرا ولا ذهبا
جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو وہ ہرگز ریشم اور سونا نہ پہنے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7591
وحدّثنا أبو العباس، حَدَّثَنَا بحر بن نصر، حَدَّثَنَا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ أبا عُشَّانة المَعافِري حدَّثه، أنه سمع عُقبةَ بن عامر الجُهَني يُخبر: أنَّ رسول الله ﷺ كان يَمنَعُ أهلَه الحِلْيةَ، ويقول:"إنْ كنتُم تُحبُّون حِليةَ الجنة وحريرَها، فلا تَلْبَسْنَها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7403 - لم يخرجا لأبي عشانة
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کو سونے چاندی کے زیورات پہننے سے منع کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: اگر تم جنت کے زیور اور وہاں کا ریشم پہننا چاہتی ہو تو دنیا میں اس کو چھوڑ دو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب اللباس/حدیث: 7591]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7591 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو عشّانة: هو حيّ بن يُومن المعافري المصري.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو عشّانہ سے مراد "حیّ بن یومن معافری مصری" ہیں۔
وأخرجه النسائي (9374) عن وهب بن بيان وابن حبان (5486) من طريق حرملة بن يحيى، كلاهما عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج نسائی (9374) نے وہب بن بیان سے، اور ابن حبان (5486) نے حرملہ بن یحییٰ کے طریق سے کی ہے، یہ دونوں عبد اللہ بن وہب سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه أحمد 28/ (17310) من طريق رِشدين بن سعد، عن عمرو بن الحارث، به. وانظر التعليق عليه هناك.
📖 حوالہ / مصدر: اور اس کی تخریج احمد (28/ 17310) نے رِشدین بن سعد کے طریق سے، انہوں نے عمرو بن حارث سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔ وہاں اس پر تعلیق (حاشیہ) ملاحظہ کریں۔