المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. خير ما أعطي العبد المسلم خلق حسن
مسلمان بندے کو عطا کی گئی بہترین چیز حسنِ اخلاق ہے
حدیث نمبر: 7617
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني (2) ، حدثنا أبو الجَوَّاب، حدثنا عبد الجبَّار بن العباس الشِّبَامي (3) ، عن سَلَمة بن كُهيل، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: كان سليمانُ بن داود إذا صلَّى الصلاة طَلَعَتْ بين عينيه شجرةٌ، فيقول لها ما أنتِ؟ ولأيِّ شيء طلعتِ؟ فتقول: أنا شجرةُ كذا وكذا، طلعتُ لداءِ كذا وكذا، فلما صلَّى ذاتَ يوم الغداةَ، طلعَتْ بين عينيه شجرةٌ، فقال لها: ما أنتِ؟ ولأيِّ شيء طلعتِ؟ قالت أنا الخُرْنوب، طلعتُ لِخَراب هذا المسجد، فعَلِمَ سليمانُ أنَّ أجلَه قد اقترب، وأنَّ بيت المَقدِس لا يَحْرَبُ وهو حيٌّ، فدعا الله تعالى أن يُعمِّي على الشيطان موتَه، وكانت الجنُّ تزعُمُ أَنَّ الشياطين يعلمون الغيبَ، فمات على عصاه، فسَلَّط الأَرضَةَ على عصاه فأكلَتْها فسقط، فحَقَّ على الشياطين أن تأتيَ الأَرضَةَ بالماء حيث كانت تُثْني عليها شُكرًا بما صنعَتْ بعصا سليمان (1) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا سلیمان بن داؤد علیہ السلام جب نماز پڑھتے تو آپ کے سامنے ایک درخت نمودار ہوتا، آپ اس سے اس کا نام اور فائدہ پوچھتے، وہ اپنا نام بھی بتاتا اور جس کام میں وہ استعمال ہوتا ہے وہ مقصد بھی بتاتا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ کے سامنے ایک درخت نمودار ہوا، آپ نے اس سے اس کا نام اور فائدہ پوچھا، اس نے بتایا کہ میرا نام ” خرنوب “ ہے، اور میں اس مسجد کو برباد کرنے کے لئے آیا ہوں، سیدنا سلیمان علیہ السلام سمجھ گئے کہ اب ان کی وفات کا دن قریب ہے کیونکہ میری حیات میں بیت المقدس اجڑ نہیں سکتا۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ جنات سے ان کی موت کو مخفی رکھا جائے، جنات یہ سمجھتے تھے کہ وہ غیب جانتے ہیں۔ چنانچہ سیدنا سلیمان علیہ السلام عصا کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے انتقال کر گئے، جب زمین نے عصا کو کھا لیا اور سلیمان علیہ السلام زمین پر گر گئے، (تب جنات کو پتہ چلا کہ سلیمان علیہ السلام تو وفات پا چکے ہیں، اس سے ثابت ہو گیا کہ جنات غیب کا علم نہیں رکھتے) جنات نے اپنے اوپر زمین کا یہ حق سمجھا کہ وہ زمین پر پانی لائیں۔ کیونکہ وہ سلیمان علیہ السلام کا عصا کھانے پر زمین کا شکریہ ادا کرنا چاہتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7617]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7617 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرّف في (ص) و (م) إلى الصنعاني.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ص) اور (م) میں یہ نام تحریف ہو کر "صنعانی" ہو گیا ہے۔
(3) تحرّف في النسخ إلى: الشيباني.
📝 نوٹ / توضیح: نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "شیبانی" ہو گیا ہے۔
(1) إسناده حسن. أبو الجواب: هو الأحوص بن جواب الضبي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔ 🔍 تعینِ راوی: ابوالجواب سے مراد احوص بن جواب ضبی ہیں۔
وأخرجه ابن عساكر 22/ 296 من طريق الحسين بن الحسن، عن أبي الجواب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر (22/ 296) نے حسین بن حسن کے طریق سے، عن ابی الجواب اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔