🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. كان - صلى الله عليه وآله وسلم - إذا دخل فى الصلاة يقول : " اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم وهمزه ونفخه ونفثه "
رسولُ اللہ ﷺ جب نماز میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اے اللہ! میں شیطان مردود سے، اس کے وسوسوں، تکبر اور پھونک سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 762
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني (1) ، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا علي بن حَكِيم، أخبرنا المعتمِر بن سليمان، عن مثنَّى بن الصَّبّاح، عن عمرو بن دينار، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس: أنَّ النبي ﷺ كان إذا جاءه جبريل فقرأَ ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ عَلِمَ أنها سورةٌ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 750 - صحيح وليس له علة
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ» "اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان بہت رحم والا ہے" لے کر آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ جاتے کہ یہ (نئی) سورت ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 762]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 762 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وقع هنا في المطبوع تقديم وتأخير في مجموعة كبيرة من الأحاديث ممّا جعل في ترتيب الأحاديث اضطرابًا شديدًا.
📝 نوٹ / توضیح: مطبوعہ نسخے میں یہاں احادیث کے ایک بڑے مجموعے میں تقدیم و تاخیر (آگے پیچھے ہونا) واقع ہوئی ہے، جس کی وجہ سے احادیث کی ترتیب میں شدید اضطراب پیدا ہو گیا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، المثنى بن الصباح متفق على ضعفه، وقد توبع كما في الحديثين التاليين، لكن اختُلف في وصله وإرساله كما هو مبيَّن في التعليق على "سنن أبي داود" (788) حيث رواه من طرق عن سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، به موصولًا ومرسلًا.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث اپنی اصل میں صحیح ہے، مگر یہ خاص سند المثنیٰ بن الصباح کے متفقہ ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: تاہم اگلی دو احادیث میں اس کی متابعت موجود ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے موصول (متصل) اور مرسل ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے جیسا کہ 'سنن ابی داود' (788) کے حاشیے میں مذکور ہے، جہاں سفیان بن عیینہ نے اسے عمرو بن دینار سے دونوں صورتوں میں روایت کیا ہے۔