المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
35. إن الله - تعالى - لم يجعل شفاءكم فيما حرم عليكم
بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری شفا ان چیزوں میں نہیں رکھی جو تم پر حرام کی ہیں
حدیث نمبر: 7698
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ بكيرًا حدثه، أَنَّ أُمَّه حدَّثته: أَنَّها أرسلَتْ إلى عائشة بأخيه مَخرَمة، وكانت تُداوي من قَرْحةٍ تكون بالصِّبيان، فلما داوته عائشةُ وفَرَغَت منه، رأَتْ في رِجلَيه خَلْخالَي (2) حديد، فقالت عائشةُ: أظننتُم أنَّ هذين الخَلْخالَينِ يَدفَعانِ عنه شيئًا كتبه الله عليه؟ لو رأيتُهما ما تَداوَى عندي، وما مُسَّ عندي لَعَمْرِي لَخلخالانِ (1) من فِضَّة أطهرُ من هذين (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7508 - حذفه الذهبي من التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7508 - حذفه الذهبي من التلخيص
سیدنا بکیر کی والدہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے اپنے بھائی مخرمہ کو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، ام المومنین بچوں کے پھوڑوں کا علاج کیا کرتی تھیں۔ جب ام المومنین نے اس کو دوا دی، اور اس سے فارغ ہو گئیں تو اس بچے کے پاؤں میں لوہے کہ دو پازیبیں دیکھں، ام المومنین نے فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ پازیبیں دیکھیں، ام المومنین نے فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ پازیبیں اس کی اس بیماری کو دور کر دیں گی؟ جو اللہ تعالیٰ نے اس کے نصیب میں لکھ دی ہے۔ اگر میں پہلے اس کو دیکھ لیتی تو نہ میرے پاس آتا اور نہ میں اس کو دوا دیتی۔ مجھے قسم ہے، چاندی کی پازیبیں ان لوہے کی پازیبوں سے بہتر ہوتی ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 7698]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7698 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده فيه لين، أم بكير لم نقف لها على ترجمة. وهو في جامع ابن وهب" (668 - أبو الخير).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند میں "لین" (کمزوری) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ام بکیر نامی خاتون کے حالاتِ زندگی معلوم نہیں ہو سکے۔ یہ روایت "جامع ابن وہب" (668) میں بھی ہے۔