🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

35. إِنَّ اللَّهَ - تَعَالَى - لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِيمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ
بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری شفا ان چیزوں میں نہیں رکھی جو تم پر حرام کی ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7698
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ بكيرًا حدثه، أَنَّ أُمَّه حدَّثته: أَنَّها أرسلَتْ إلى عائشة بأخيه مَخرَمة، وكانت تُداوي من قَرْحةٍ تكون بالصِّبيان، فلما داوته عائشةُ وفَرَغَت منه، رأَتْ في رِجلَيه خَلْخالَي (2) حديد، فقالت عائشةُ: أظننتُم أنَّ هذين الخَلْخالَينِ يَدفَعانِ عنه شيئًا كتبه الله عليه؟ لو رأيتُهما ما تَداوَى عندي، وما مُسَّ عندي لَعَمْرِي لَخلخالانِ (1) من فِضَّة أطهرُ من هذين (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7508 - حذفه الذهبي من التلخيص
سیدنا بکیر کی والدہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے اپنے بھائی مخرمہ کو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا، ام المومنین بچوں کے پھوڑوں کا علاج کیا کرتی تھیں۔ جب ام المومنین نے اس کو دوا دی، اور اس سے فارغ ہو گئیں تو اس بچے کے پاؤں میں لوہے کہ دو پازیبیں دیکھں، ام المومنین نے فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ پازیبیں دیکھیں، ام المومنین نے فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ پازیبیں اس کی اس بیماری کو دور کر دیں گی؟ جو اللہ تعالیٰ نے اس کے نصیب میں لکھ دی ہے۔ اگر میں پہلے اس کو دیکھ لیتی تو نہ میرے پاس آتا اور نہ میں اس کو دوا دیتی۔ مجھے قسم ہے، چاندی کی پازیبیں ان لوہے کی پازیبوں سے بہتر ہوتی ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7698]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7699
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن شقيق قال: اشتكى رجلٌ بطنَه من الصَّفَر، فنُعِتَ له السَّكَرُ، فذكر ذلك لعبد الله، فقال: إِنَّ الله لم يَجْعَلْ شَفاءَكم فيما حَرَّم عليكم (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7509 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا شفیق فرماتے ہیں: ایک آدمی کو صفراء کی وجہ سے پیٹ کی بیماری لاحق ہو گئی۔ اس کے لئے شراب تجویز کی گئی۔ اس بات کا تذکرہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حرام چیز میں تمہارے لیے شفاء نہیں رکھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7699]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7700
وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ عبدَربّ ن سعيد حدثه، أنه سمع نافعًا يقول: كان ابنُ عمر إذا دعا طبيبًا يُعالج بعضَ أهله (1) ، اشتَرَط عليه أن لا يُداويَ بشيءٍ مما حرَّم الله ﷿ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7510 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا نافع فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی طبیب کو اپنے کسی ساتھی کے لیے علاج کے لیے بلاتے تو اس پر یہ پابندی لگاتے کہ کسی حرام چیز کے ساتھ علاج نہیں کرنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7700]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7701
أخبرني عبد الرحمن بن حَمْدان الجلَّاب بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن نصر، حدثنا حَرَميُّ بن حَفْص (3) ، حدثنا عبد العزيز بن مسلم (4) ، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة قال: أتتِ امرأةٌ النبيَّ ﷺ، فذكرت أنَّ بها طَيْفًا من الشيطان، فقال رسول الله ﷺ:"إن شئتِ دعوتُ الله ﷿ فبرَّأَكِ، وإنْ شئتِ، فلا حسابَ ولا عذابَ" قالت: يا رسولَ الله، فدَعْني إذًا (5) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7511 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئی اور بتایا کہ اس کو شیطانی خیالات بہت آتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیتا ہوں، تم ٹھیک ہو جاؤ گی، اور اگر چاہو (اس کو اسی طرح رہنے دو،) تم سے نہ حساب لیا جائے گا اور نہ تمہیں عذاب ہو گا۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھیک ہے، اس کو رہنے دیجیے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطِّبِّ/حدیث: 7701]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں