🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. ذكر أربع لا يجزئ فى الضحايا
ان چار عیوب کا تذکرہ جن کی موجودگی میں قربانی جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7717
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أيوب بن سُوَيد عن الأوزاعي، عن عبد الله بن عامر، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن البَرَاء بن عازب: أنَّ رجلًا قال له: إنَّا نكرهُ النَّقصَ في القَرْن والأُذن، فقال له البراء: اكرَهْ لنفسك ما شئتَ، ولا تُحرِّمْه على الناس، قال البراء: قال رسول الله ﷺ:"أربعٌ لا تُجزئُ في الضحايا: العوراء البيِّنُ عَوَرُها، والمكسورةُ بعضُ قوائمِها بيِّنٌ كَسْرُها، والمريضةُ بيِّنٌ مَرَضُها، والعَجْفاء التي لا تُنْقِي" (1) .
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے ان سے کہا: ہم ایسے جانور کو پسند نہیں کرتے جس کے سینگوں یا کانوں میں کوئی نقص ہو، سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم اپنے لیے جو چاہو ناپسند کرو لیکن اس کو لوگوں پر حرام مت کرو، سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چار جانور ایسے ہیں جن کی قربانی جائز نہیں ہے۔ اندھا، جس کا اندھا پن بہت واضح ہو۔ جس کی کوئی ٹانگ ٹوٹی ہو اور واضح نظر آئے۔ بیمار، جس کی بیماری بہت واضح ہو۔ ایسا لاغر جانور جس کی ہڈیوں سے گودا ختم ہو گیا ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7717]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7717 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أيوب بن سويد ضعيف، وعبد الله بن عامر -وهو الأسلمي القارئ- ضعيف أيضًا، وفيه انقطاع أو إعضال بين يزيد بن أبي حبيب والبراء كما سيأتي.
⚖️ درجۂ حدیث: متن کے اعتبار سے یہ حدیث صحیح ہے، مگر یہ خاص سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ایوب بن سوید اور عبداللہ بن عامر الاسلمی دونوں ضعیف راوی ہیں۔ مزید یہ کہ یزید بن ابی حبیب اور حضرت براء رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع یا اعضال (دو راویوں کا گرنا) پایا جاتا ہے۔
وانظر "العلل" لابن أبي حاتم (1607).
📖 حوالہ / مصدر: مزید تفصیل کے لیے ابن ابی حاتم کی کتاب 'العلل' (1607) ملاحظہ فرمائیں۔
وأخرجه الروياني في "مسنده" (436) عن الربيع بن سليمان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے رویانی نے اپنی 'مسند' (436) میں ربیع بن سلیمان کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (1497) من طريق محمد بن إسحاق، عن يزيد بن أبي حبيب، عن سليمان ابن عبد الرحمن، عن عبيد بن فيروز، عن البراء. وهذه الرواية هى الموافقة لرواية الجماعة عن سليمان بن عبد الرحمن كما في الرواية السالفة عند المصنف برقم (1736)، وانظر ما بعده.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (1497) نے محمد بن اسحاق کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: یہ روایت جمہور محدثین کی سلیمان بن عبدالرحمن سے روایت کے موافق ہے، جیسا کہ مصنف کی پچھلی روایت (1736) میں گزرا۔
قوله: "لا تُنقي" يقال: أنقتِ الإبل، أي: سمنت وصار فيها نِقْيٌ، والنِّقي بالكسر: مخُّ العظم.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "لا تنقی" کا مطلب ہے وہ جانور جو اتنا دبلا ہو کہ اس کی ہڈیوں میں گودا (مخ) بھی نہ رہا ہو۔ 'نِقی' ہڈی کے گودے کو کہتے ہیں۔