المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. ذِكْرُ أَرْبَعٍ لَا يُجْزِئُ فِي الضَّحَايَا
ان چار عیوب کا تذکرہ جن کی موجودگی میں قربانی جائز نہیں
حدیث نمبر: 7717
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أيوب بن سُوَيد عن الأوزاعي، عن عبد الله بن عامر، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن البَرَاء بن عازب: أنَّ رجلًا قال له: إنَّا نكرهُ النَّقصَ في القَرْن والأُذن، فقال له البراء: اكرَهْ لنفسك ما شئتَ، ولا تُحرِّمْه على الناس، قال البراء: قال رسول الله ﷺ:"أربعٌ لا تُجزئُ في الضحايا: العوراء البيِّنُ عَوَرُها، والمكسورةُ بعضُ قوائمِها بيِّنٌ كَسْرُها، والمريضةُ بيِّنٌ مَرَضُها، والعَجْفاء التي لا تُنْقِي" (1) .
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے کہا: ہم سینگ اور کان میں نقص کو ناپسند کرتے ہیں، تو براء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اپنے لیے جو چاہو ناپسند کرو مگر اسے لوگوں پر حرام نہ کرو، براء رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قربانی میں چار قسم کے جانور درست نہیں ہیں: وہ کانا جس کا کانا پن واضح ہو، وہ لنگڑا جس کا لنگڑا پن بالکل عیاں ہو، وہ بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو، اور وہ دبلا جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ رہا ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7717]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أيوب بن سويد ضعيف، وعبد الله بن عامر» [ترقيم الرساله 7717] [ترقيم الشركة 7625]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 7718
وحدثنا أبو العباس عَقِبَه، حدثنا الربيع، حدثنا أيوب بن سُوَيد، حدثنا الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن البَراء بن عازِب، عن رسول الله ﷺ، بمثِلِه (2) . قال الرّبيع في كتابي بالإسنادين: قال: حدثنا الأوزاعي. حديثُ أبي سلمة عن البراء بن عازب صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما أخرج مسلم ﵀ حديث سليمان بن عبد الرحمن عن عُبيد بن فَيرُوز عن البراء (3) ، وهو فيما أُخذ على مسلم ﵀ لاختلاف الناقلين فيه، وأصحُّه حديثُ يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة، إن سَلِمَ من (1) أيوب بن سُوَيد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7527 - أيوب بن سويد ضعفه أحمد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7527 - أيوب بن سويد ضعفه أحمد
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح ارشاد فرمایا۔
ابوسلمہ کی براء بن عازب سے روایت صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، امام مسلم نے عبید بن فیروز کی روایت سے براء کی حدیث تخریج کی ہے، اور یحییٰ بن ابی کثیر کی ابوسلمہ سے روایت سب سے زیادہ صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7718]
ابوسلمہ کی براء بن عازب سے روایت صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، امام مسلم نے عبید بن فیروز کی روایت سے براء کی حدیث تخریج کی ہے، اور یحییٰ بن ابی کثیر کی ابوسلمہ سے روایت سب سے زیادہ صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7718]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف من أجل أيوب بن سويد» [ترقيم الرساله 7718] [ترقيم الشركة 7626] [ترقيم العلميه 7527]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7719
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث وسعيد بن أبي أيوب وعبد الله ابن عيّاش، أنَّ عيّاش بن عبّاس (2) حدّثهم عن عيسى بن هلال الصَّدَفي، عن عبد الله ابن عمرو: أنَّ رجلًا أتى رسول الله ﷺ، فقال له رسول الله ﷺ:"وأُمِرتُ بيوم الأضحى عيدًا جعله اللهُ لهذه الأُمّة" قال الرجلُ: فإن لم أَجد (3) إِلَّا مَنيحةَ ابني (4) أو شاةَ ابني (5) وأهلي أو مَنيحتَهم، أذبحُها؟ قال:"لا، ولكن قلِّمْ أظفارَك، وقُصَّ شاربَك، واحلِقْ عانتَك، فذلك تمامُ أُضحيَّتِك عند الله ﷿" (6) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7529 -
هذا حديث صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7529 -
هذا حديث صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”مجھے یومِ اضحی کو عید منانے کا حکم دیا گیا ہے جسے اللہ نے اس امت کے لیے مقرر فرمایا ہے۔“ اس شخص نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) اگر میرے پاس سوائے اپنے بیٹے کی منیہہ (دودھ دینے والی اونٹنی) یا اپنی اور اپنے گھر والوں کی بکری کے علاوہ کچھ نہ ہو، تو کیا میں اسے ذبح کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ (اس کے بجائے) تم اپنے ناخن تراشو، اپنی مونچھیں کاٹو اور زیرِ ناف بال صاف کرو، اللہ عزوجل کے ہاں یہی تمہاری مکمل قربانی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7719]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7719]
تخریج الحدیث: «إسناده ليِّن من أجل عيسى بن هلال الصدفي كما سلف برقم (4008)» [ترقيم الرساله 7719] [ترقيم الشركة 7627] [ترقيم العلميه 7529]
الحكم على الحديث:
إسناده ليِّ