🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. ذِكْرُ أَرْبَعٍ لَا يُجْزِئُ فِي الضَّحَايَا
ان چار عیوب کا تذکرہ جن کی موجودگی میں قربانی جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7716
أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بهَمَذان، حدثنا أبو الوليد محمد بن أحمد بن بُرْد الأنطاكي، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحُنَيني، حدثنا هشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يَسار، عن أبي هريرة قال: نزل جبريلُ ﵇ على النبي ﷺ، فقال له النبيُّ ﷺ:"يا جبريلُ، كيف رأيتَ عيدَنا؟ فقال: لقد تَباهَى به أهلُ السماء، اعلَمْ يا محمَّد أَنَّ الجَذَعَ من الضَّأْن خيرٌ من السَّيِّد من المَعْز، وأنَّ الجَذَعَ من الضَّأن خيرٌ من السيِّد من البقر، وأنَّ الجَذَع من الضّأْن خيرٌ من السيِّد من الإبل، ولو عَلِمَ الله ذبحًا خيرًا منه فَدَى به إبراهيمَ ﵇" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7526 - إسحاق هالك
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا جبریل امین علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے جبریل تم نے ہماری عید کیسی دیکھی؟ جبریل امین علیہ السلام نے بتایا کہ آسمان والے اس پر خوشی منا رہے ہیں، اے محمد! جان لیجیے، دنبہ چھوٹا بھی ہو، وہ بڑے بکرے سے بہتر ہے۔ دنبہ چھوٹا بھی ہو، وہ بڑے بکرے سے بہتر ہے۔ دنبہ چھوٹا بھی ہو، وہ بڑے بکرے سے بہتر ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس سے بہتر کوئی قربانی ہوتی تو ابراہیم علیہ السلام کو فدئیے کے طور پر وہی دی جاتی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7716]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7717
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أيوب بن سُوَيد عن الأوزاعي، عن عبد الله بن عامر، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن البَرَاء بن عازب: أنَّ رجلًا قال له: إنَّا نكرهُ النَّقصَ في القَرْن والأُذن، فقال له البراء: اكرَهْ لنفسك ما شئتَ، ولا تُحرِّمْه على الناس، قال البراء: قال رسول الله ﷺ:"أربعٌ لا تُجزئُ في الضحايا: العوراء البيِّنُ عَوَرُها، والمكسورةُ بعضُ قوائمِها بيِّنٌ كَسْرُها، والمريضةُ بيِّنٌ مَرَضُها، والعَجْفاء التي لا تُنْقِي" (1) .
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے ان سے کہا: ہم ایسے جانور کو پسند نہیں کرتے جس کے سینگوں یا کانوں میں کوئی نقص ہو، سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم اپنے لیے جو چاہو ناپسند کرو لیکن اس کو لوگوں پر حرام مت کرو، سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چار جانور ایسے ہیں جن کی قربانی جائز نہیں ہے۔ اندھا، جس کا اندھا پن بہت واضح ہو۔ جس کی کوئی ٹانگ ٹوٹی ہو اور واضح نظر آئے۔ بیمار، جس کی بیماری بہت واضح ہو۔ ایسا لاغر جانور جس کی ہڈیوں سے گودا ختم ہو گیا ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7717]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7718
وحدثنا أبو العباس عَقِبَه، حدثنا الربيع، حدثنا أيوب بن سُوَيد، حدثنا الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن البَراء بن عازِب، عن رسول الله ﷺ، بمثِلِه (2) . قال الرّبيع في كتابي بالإسنادين: قال: حدثنا الأوزاعي. حديثُ أبي سلمة عن البراء بن عازب صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما أخرج مسلم ﵀ حديث سليمان بن عبد الرحمن عن عُبيد بن فَيرُوز عن البراء (3) ، وهو فيما أُخذ على مسلم ﵀ لاختلاف الناقلين فيه، وأصحُّه حديثُ يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة، إن سَلِمَ من (1) أيوب بن سُوَيد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7527 - أيوب بن سويد ضعفه أحمد
ابوسلمہ نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی ارشاد نقل کیا ہے۔ ٭٭ ربیع نے دو اسنادوں کے ہمراہ اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ہمیں اوزاعی نے ابوسلمہ کے واسطے سے سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی ہے۔ اور یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ تاہم امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سلیمان بن عبدالرحمن کے حوالے سے سیدنا عبید بن فیروز سے پھر سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث نقل کی ہے۔ اس روایت کی بناء پر امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ پر گرفت بھی ہوئی ہے کیونکہ اس میں ناقلین کا اختلاف ہے، اور اس معاملہ میں سب سے صحیح حدیث وہ ہے جو یحیی بن ابی کثیر نے سیدنا ابوسلمہ سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7718]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں