🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. نَهَى النَّبِيَّ أَنَّ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ .
نبی کریم ﷺ نے ٹوٹے ہوئے سینگ اور کٹے ہوئے کان والے جانور کی قربانی سے منع فرمایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7721
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو بكر بن عيّاش، حدثنا أبو إسحاق، عن شُريح بن النُّعمان، عن علي بن أبي طالب قال: نهى رسولُ الله ﷺ أن يُضحَّى بمُقابَلَةٍ ومُدابَرَةٍ أو شَرْقاءَ أو خَرْقاءَ أو جَدْعاء (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7531 - صحيح
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جانور کی قربانی سے منع فرمایا جس کا کان آگے سے کٹا ہو «مُقَابَلَةٍ»، یا پیچھے سے کٹا ہو «مُدَابَرَةٍ»، یا لمبائی میں پھٹا ہوا ہو «شَرْقَاءَ»، یا اس میں گول سوراخ ہو «خَرْقَاءَ»، یا جس کا کان جڑ سے کٹا ہوا ہو «جَدْعَاءَ» ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7721]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وسيأتي الكلام على إسناده في الحديث الذي يليه» [ترقيم الرساله 7721] [ترقيم الشركة 7629] [ترقيم العلميه 7531]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7721 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف، وسيأتي الكلام على إسناده في الحديث الذي يليه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے، اور اس کی سند پر تفصیلی بحث اگلی حدیث میں آئے گی۔
وأخرجه أحمد 2/ (609)، وابن ماجه (3142)، والنسائي (4448) من طريق عن أبي بكر ابن عياش، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (2/609)، ابن ماجہ (3142) اور نسائی (4448) نے ابوبکر بن عیاش کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (4449) من طريق زياد بن خيثمة، عن أبي إسحاق، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (4449) نے زیاد بن خیثمہ کے طریق سے ابو اسحاق سبیعی سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي من طريق أبي إسحاق في الروايتين التاليتين، وفيه زيادة استشراف العين والأذن، وهناك يأتي تخريجه.
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت اگلی دو روایات میں ابو اسحاق کے طریق سے آئے گی، جس میں آنکھ اور کان کو اچھی طرح دیکھ لینے (استشراف) کا اضافہ ہے، اور وہیں اس کی تخریج بھی ذکر کی جائے گی۔
قال السِّندي في شرحه على ابن ماجه: "بمقابَلة" بفتح الباء وكذا "مدابَرة"، الأُولى هي التي قطع مقدَّم أذنها، والثانية هي التي قطع مؤخر أذنها، والشرقاء: مشقوقة الأذن نصفين، والخرقاء: التي في أذنها ثقب مستدير، والجدعاء: من الجدع: وهو قطع الأنف والأذن والشفة، وهي بالأنف أخصُّ، فإذا أُطلق غلب عليه. وسيأتي تفسيره عن أبي إسحاق السبيعي بنحو هذا الكلام في الحديث الذي يليه.
📌 اہم نکتہ: علامہ سندھی شرح ابن ماجہ میں فرماتے ہیں: 'مقابلہ' وہ جانور ہے جس کے کان کا اگلا حصہ کٹا ہو، 'مدابره' جس کے کان کا پچھلا حصہ کٹا ہو، 'شرقاء' جس کا کان لمبائی میں چرا ہوا ہو، 'خرقاء' جس کے کان میں گول سوراخ ہو، اور 'جدعاء' جس کی ناک، کان یا ہونٹ کٹا ہو (اگرچہ یہ ناک کٹنے کے لیے زیادہ مستعمل ہے)۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابو اسحاق سبیعی سے بھی اسی قسم کی تفسیر اگلی حدیث میں آ رہی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7721 in Urdu