🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. نَهَى النَّبِيَّ أَنَّ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ .
نبی کریم ﷺ نے ٹوٹے ہوئے سینگ اور کٹے ہوئے کان والے جانور کی قربانی سے منع فرمایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7719
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث وسعيد بن أبي أيوب وعبد الله ابن عيّاش، أنَّ عيّاش بن عبّاس (2) حدّثهم عن عيسى بن هلال الصَّدَفي، عن عبد الله ابن عمرو: أنَّ رجلًا أتى رسول الله ﷺ، فقال له رسول الله ﷺ:"وأُمِرتُ بيوم الأضحى عيدًا جعله اللهُ لهذه الأُمّة" قال الرجلُ: فإن لم أَجد (3) إِلَّا مَنيحةَ ابني (4) أو شاةَ ابني (5) وأهلي أو مَنيحتَهم، أذبحُها؟ قال:"لا، ولكن قلِّمْ أظفارَك، وقُصَّ شاربَك، واحلِقْ عانتَك، فذلك تمامُ أُضحيَّتِك عند الله ﷿" (6) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7529 -
هذا حديث صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں قربانی کے دن کو عید بناؤں، اللہ تعالیٰ نے یہ دن اس امت کے لیے عید بنا دیا ہے۔ اس آدمی نے کہا: اگر میرے پاس منیحہ (ایسی اونٹنی جو کسی سے فائدہ اٹھانے کے لیے لی گئی ہو) یا گھر والوں کی بکری یا گھر والوں کی منیحہ کے علاوہ میرے پاس کوئی جانور نہ ہو، تو کیا میں اس کو ذبح کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ لیکن (قربانی کے دن) اپنے ناخن کاٹ لے، اپنی مونچھیں پست کروا لے، اور بال کاٹ لے، تجھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اسی عمل کی بدولت قربانی کا ثواب مل جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7719]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7720
أخبرنا عبد الله بن إسحاق بن الخُراساني العَدْل ببغداد، حدثنا أحمد بن حيَّان بن مُلاعِب، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا شُعْبة وسعيد، عن قَتَادة قال: سمعتُ جُرَيَّ بن كُلَيب، رجلًا منهم، عن علي بن أبي طالب: أنَّ النبي ﷺ نهى أن يُضحَّى بأعضَبِ القَرْنِ والأُذن. قال قَتَادة: وذكرتُ ذلك لسعيد بن المسيّب، قال: العَضَبُ النِّصْفُ فما فوقَ ذلك (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7530 - صحيح
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا جانور قربان کرنے سے منع فرمایا ہے جس کے کان یا سینگ کٹے ہوئے ہوں۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے یہ بات سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کو بتائی تو انہوں نے بتایا کہ اعضب، اس جانور کو کہتے ہیں جس کا آدھا یا اس سے زیادہ سینگ کٹا ہوا ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ/حدیث: 7720]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں