🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. الدعاء عند الذبح .
ذبح کے وقت کی دعا کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7745
وحدَّثَناه أبو الحسن محمد بن علي بن بكر العَدل، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، عن عُمارة بن غَزِيَّة، حدثني ابن أبي رافع، عن أبيه، عن جدِّه قال: ذَبَحَ رسولُ الله ﷺ أُضحيَّتَه، ثم قال:"اللهمَّ هذا عنِّي وعن أمَّتي" (1) .
ابن ابی رافع اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کا جانور ذبح کرنے بعد یوں دعا مانگی: یا اللہ یہ قربانی میری طرف سے اور میری امت کی طرف سے قبول فرما [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأضاحي/حدیث: 7745]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7745 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده فيه لين، ابن أبي رافع -واسمه المعتمر كما جاء مسمًّى عند من أخرج الحديث، ويقال في اسمه أيضًا: المغيرة - روى عنه عمارة بن غزية وعمرو بن أبي عمرو، إلّا أنَّ حديث عمرو عنه فيه اضطراب كما بيّنه البخاري في ترجمة حنين بن أبي المغيرة من "تاريخه الكبير" 3/ 106، ولذلك لم يذكر في ترجمة المعتمر بن أبي رافع من "تاريخه" 8/ 50 راويًا عنه غير عمارة، وأما ذكر جدِّه في رواية المصنف وغيره، فهو وهمٌ من بعض الرواة، فالحديث من مسند أبي رافع مولى النبي ﷺ، وهو والد المعتمر لحًّا، وجاء على الصواب بدون ذكره فيما علَّقه البخاري في ترجمة المعتمر، وفي رواية الطبراني في "الأوسط".
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند میں کچھ کمزوری (لین) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن ابی رافع (جن کا نام معتمر ہے اور مغیرہ بھی کہا جاتا ہے) سے عمارہ بن غزية اور عمرو بن ابی عمرو نے روایت کی ہے، لیکن عمرو کی ان سے روایت میں اضطراب ہے، جیسا کہ امام بخاری نے "تاریخ کبیر" (3/ 106) میں واضح کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: مصنف کے ہاں سند میں دادا کا ذکر بعض راویوں کا وہم ہے۔ درست یہ ہے کہ یہ حدیث حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ (مولیٰ نبی ﷺ) کی ہے، جو کہ معتمر کے حقیقی والد ہیں۔ امام بخاری اور طبرانی (الاوسط) نے اسے دادا کے ذکر کے بغیر درست طور پر نقل کیا ہے۔
وأخرجه الروياني في "مسنده" (714)، والطبراني في (الكبير) (957)، وفي "الأوسط" (244) من طرق عن سعيد بن أبي مريم، بهذا الإسناد. وليس في رواية "الأوسط" ذكر الجدّ كما ذكرنا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے رویانی نے "مسند" (714) میں اور طبرانی نے "الکبیر" (957) اور "الاوسط" (244) میں سعید بن ابی مریم کے طریق سے روایت کیا ہے۔ "الاوسط" کی روایت میں دادا کا ذکر موجود نہیں۔
وسلف عند المصنف برقم (3520) مطولًا من طريق آخر عن أبي رافع.
📖 حوالہ / مصدر: مصنف کے ہاں یہ روایت پہلے حدیث نمبر 3520 پر ایک دوسرے طریق سے تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے۔