المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. النهي عن السوم بالسلعة قبل طلوع الشمس .
سورج طلوع ہونے سے پہلے سامانِ تجارت کا بھاؤ کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 7767
أخبرني محمد بن يزيد العدل، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا هلال بن بِشر، حدثنا أبو خَلَف عبد الله بن عيسى الخزَّاز، عن يونس بن عُبيد، عن عِكرِمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ لأبي الهيثم بن التَّيِّهان:"إِيَّاكَ واللَّبُونَ، اذبَحْ لنا عناقًا"، فأمر أبو الهيثم امرأتَه فعَجَنَتْ لهم عجينًا، وقطَّع أبو الهيثم اللحمَ، وطبخَ وشَوَى (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7576 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7576 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوہیثم بن تیہان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: دودھ دار جانور کو ذبح مت کرو، ہمارے لیے عناق (ایسی بکری جو دودھ نہ دیتی ہو) کو ذبح کرو۔ چنانچہ سیدنا ابوالہیثم نے اپنی بیوی کو کہا، اس نے ان کے لیے آٹا گوندھا، اور ابوہیثم نے گوشت بنا کر دیا، ان کی بیوی نے روٹیاں پکائیں اور گوشت بھونا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الذبائح/حدیث: 7767]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7767 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن عيسى الخزاز. وهذا الحديث قطعة من الحديث المطول السالف برقم (5334).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت 'صحیح لغیرہ' ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عبد اللہ بن عیسیٰ الخزاز کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: یہ حدیث اسی طویل روایت کا ایک حصہ ہے جو پہلے حدیث نمبر 5334 پر گزر چکی ہے۔
قوله: "إياكَ واللَّبون" يحذّره من ذبح اللبون، وهي ذات الدَّرِّ كما في الرواية التالية، لكونها ترضع صغارها، وكذلك ليُفيدوا من لبنها.
📝 نوٹ / توضیح: رسول اللہ ﷺ کا فرمان "إياكَ واللَّبون" (دودھ دینے والے جانور سے بچو) دراصل دودھ دینے والے جانور کو ذبح کرنے سے ڈرانا ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں صراحت ہے، کیونکہ وہ اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے اور اس لیے بھی کہ لوگ اس کے دودھ سے فائدہ اٹھا سکیں۔