المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
3. النهي عن مثلة الحيوان .
جانوروں کے اعضاء کاٹنے (مثلہ کرنے) کی ممانعت
حدیث نمبر: 7766
أخبرنا أحمد بن جعفر القطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة، عن المِنهال بن عمرو قال: سمعتُ سعيد بن جُبَير يقول: مررتُ مع ابن عمر في طريق من طُرق المدينة، فإذا فتيةٌ قد نَصَبُوا دجاجةً يرمونها، قال: فغَضِبَ، وقال: مَن فعل هذا؟ فتفرَّقوا، فقال ابنُ عمر: لعنَ رسول الله ﷺ من يُمثِّلُ بالحيوان (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7575 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7575 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ مدینہ شریف کی ایک گلی میں سے گزر رہا تھا، وہاں کچھ بچے ایک مرغی کو زمین میں گاڑ کر اس کو پتھر مار رہے تھے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بہت ناراض ہوئے، اور پوچھا: یہ کام کس نے کیا؟ وہ سب بچے وہاں سے بھاگ گئے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی اس پر لعنت ہے جو جانور کا مثلہ کرے۔ (مثلہ کا مطلب ہے شکل بگاڑنا) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الذبائح/حدیث: 7766]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7766 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. وهو في "مسند أحمد" 5/ (3133) و 9/ (5018).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" (جلد 5، حدیث 3133 اور جلد 9، حدیث 5018) میں موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 9 (5801)، والنسائي (4516)، وابن حبان (5617) من طرق عن شعبة، بهذا
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (9/ 5801)، نسائی (4516) اور ابن حبان (5617) نے امام شعبہ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
الإسناد.
📝 نوٹ / توضیح: (سابقہ سند کا تسلسل)۔
وأخرجه أحمد 8/ (4622) و 9/ (5247) من طريق الأعمش، عن المنهال بن عمرو، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (جلد 8، حدیث 4622 اور جلد 9، حدیث 5247) میں امام اعمش کے طریق سے المنہال بن عمرو کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 9/ (5587) و 10/ (6259)، والبخاري (5515)، ومسلم (1958)، والنسائي (4515) من طريق أبي بشر جعفر بن أبي وحشية، عن سعيد بن جبير، به. بلفظ: أنَّ رسول الله ﷺ لعن من فعل هذا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی مفہوم کے ساتھ امام احمد (9/ 5587 اور 10/ 6259)، بخاری (5515)، مسلم (1958) اور نسائی (4515) نے ابو بشر جعفر بن ابی وحشیہ کے طریق سے سعید بن جبیر کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: اس کے الفاظ یہ ہیں: "رسول اللہ ﷺ نے اس شخص پر لعنت فرمائی جو ایسا (یعنی کسی جاندار کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی) کرے"۔
وأخرج أحمد 9/ (5682)، والبخاري (5514) من طريق سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص، عن ابن عمر قال: سمعت رسول الله ﷺ ينهى أن تُصبَر بهيمة أو غيرها لقتل. وفيه قصة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (9/ 5682) اور امام بخاری (5514) نے سعید بن عمرو بن سعید بن العاص کے طریق سے حضرت ابن عمر سے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: "میں نے رسول اللہ ﷺ کو کسی بھی چوپائے یا جاندار کو باندھ کر مارنے سے منع فرماتے سنا ہے"۔ اس روایت کے ساتھ ایک واقعہ بھی منسلک ہے۔
وأخرج أحمد 9/ (5661) و 10/ (5956) من طريق أبي صالح الحنفي، عن رجل من أصحاب النبي ﷺ، يُراه ابنَ عمر قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "من مَثَّل بذي رُوح ثم لم يتب، مثَّل اللهُ به يوم القيامة". وفي سنده ضعف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (9/ 5661 اور 10/ 5956) نے ابو صالح حنفی کے طریق سے ایک صحابی سے روایت کیا ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ حضرت ابن عمر ہیں۔ 📌 اہم نکتہ: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: "جس نے کسی جاندار کا مثلہ کیا (اعضاء کاٹے) اور پھر توبہ نہ کی، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا مثلہ فرمائے گا"۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند میں کچھ کمزوری (ضعف) ہے۔
(2) لعلَّ المصنف أراد أن يفرِّق هنا بين لفظي المنهال بن عمرو وجعفر بن أبي وحشية، فالأول لم يخرج الشيخان حديثه بخلاف الثاني، إلَّا أنَّ البخاري قد علَّق رواية المنهال بن عمرو بإثر الحديث (5515) من طريق سليمان بن حرب عن شعبة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: شاید مصنف نے یہاں المنہال بن عمرو اور جعفر بن ابی وحشیہ کے الفاظ کے درمیان فرق کرنا چاہا ہے، کیونکہ المنہال بن عمرو کی روایت کردہ حدیث کو صحیحین (بخاری و مسلم) نے اپنی اسانید میں جگہ نہیں دی، برخلاف جعفر کے۔ تاہم، امام بخاری نے حدیث نمبر 5515 کے فورا بعد سلیمان بن حرب عن شعبہ کے طریق سے المنہال بن عمرو کی روایت کو بطور 'تعلیق' ذکر کیا ہے۔