المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. النهي عن السوم بالسلعة قبل طلوع الشمس .
سورج طلوع ہونے سے پہلے سامانِ تجارت کا بھاؤ کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 7769
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا بشر بن بكر، حدثنا الأوزاعي، حدثني حسَّان بن عطيّة، حدثني أبو كَبْشة السَّلُولي، قال: سمعتُ عبد الله بن عمرو بن العاص يقول: قال رسول الله ﷺ:"أربعونَ خَصلةً أعلاهنَّ مِنْحةُ العَنْز، لا يعملُ عبدٌ بخَصْلةٍ منها رجاءَ ثوابها، وتصديقَ موعودِه، إلَّا أدخله اللهُ بها الجنَّةَ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7578 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7578 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چالیس عادتیں (اچھی) ہیں، ان میں سب سے اعلیٰ۔ بکری کو منیحہ کرنا ہے (منیحہ وہ دودھ والی بکری یا اونٹنی ہے جس کو ایک معین مدت تک دودھ کے لیے مستعار لیا جاتا ہے اور پھر مالک کو واپس کر دی جاتی ہے) انسان ان میں سے کوئی کام بھی ثواب کی نیت سے کرے اور جو اس سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی تصدیق کے طور پر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الذبائح/حدیث: 7769]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7769 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح. بشر بن بكر: هو التنيسي، والأوزاعي: هو عبد الرحمن بن عمرو. وأخرجه أحمد 11/ (6488) و (6831) و (6853)، والبخاري (2631)، وأبو داود (683)، وابن حبان (5095) من طرق عن الأوزاعي، بهذا الإسناد. وعند البخاري وأبي داود زيادة: قال حسان: فعددنا ما دون مَنيحة العنز من ردِّ السلام، وتشميت العاطس، وإماطة الأذى عن الطريق، ونحوه، فما استطعنا أن نبلغ خمس عشرة خصلة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: بشر بن بکر سے مراد التنيسی اور امام اوزاعی سے مراد عبد الرحمن بن عمرو ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، بخاری (2631)، ابو داود (683) اور ابن حبان (5095) نے امام اوزاعی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: بخاری اور ابو داود کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حسان نے کہا: "ہم نے بکری کا عطیہ (منیحہ) دینے سے کم درجے کی نیکیاں شمار کیں جیسے سلام کا جواب دینا، چھینک کا جواب دینا اور راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا وغیرہ، لیکن ہم پندرہ نیکیوں تک بھی نہ پہنچ سکے"۔
واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اسے (مستدرک میں) ذکر کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے کیونکہ یہ پہلے سے کتبِ صحیحہ میں موجود ہے۔