المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. النَّهْيُ عَنِ السَّوْمِ بِالسِّلْعَةِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ .
سورج طلوع ہونے سے پہلے سامانِ تجارت کا بھاؤ کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 7770
أخبرنا أبو عَوْن محمد بن أحمد بن ماهان الجزّار بمكة على الصَّفَا، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجَّاج بن مِنهال، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن حُميد، عن أبي المتوكِّل، عن جابر: أنَّ النبيَّ ﷺ وأصحابه مرُّوا بامرأةٍ، فذبحت لهم شاةً، واتَّخَذَتْ لهم طعامًا، فلما رجع قالت: يا رسول الله، إِنَّا اتَّخَذْنا لكم طعامًا، فادخُلوا فكُلوا، فدخلَ النبيُّ ﷺ وأصحابُه، وكانوا لا يَبدَؤون حتى يبدأَ النبيُّ ﷺ، فأخذ النبيُّ ﷺ (1) لُقمةً فلم يستطع أن يُسِيغَها، فقال النبيُّ ﷺ:"هذه شاةٌ ذُبِحَتْ بغير إذن أهلِها"، فقالت المرأةُ (2) : يا نبيَّ الله، إنَّا لا نَحتشِمُ من آل مُعاذ ولا يَحتشِمون منَّا، أنْ نأخذَ منهم، ويأخذون منّا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7579 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7579 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا گزر ایک خاتون کے پاس سے ہوا، اس نے ان کے لیے ایک بکری ذبح کی اور کھانا تیار کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا ہے، تشریف لائیے اور تناول فرمائیے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ داخل ہوئے، اور صحابہ اس وقت تک (کھانا) شروع نہیں کرتے تھے جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابتدا نہ فرمائیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لقمہ لیا لیکن آپ اسے حلق سے نیچے نہ اتار سکے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایسی بکری ہے جو اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر ذبح کی گئی ہے“، اس خاتون نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم آلِ معاذ سے جھجک محسوس نہیں کرتے اور نہ ہی وہ ہم سے جھجکتے ہیں کہ ہم ان کی چیز لے لیں یا وہ ہماری لے لیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الذبائح/حدیث: 7770]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الذبائح/حدیث: 7770]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7770] [ترقيم الشركة 7678] [ترقيم العلميه 7579]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7770 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) قوله: "فأخذ النبي" سقط من (ز).
🔍 فنی نکتہ / علّت: عبارت کا حصہ "فأخذ النبي" نسخہ (ز) میں موجود نہیں ہے (ساقط ہے)۔
(2) قوله: هذه شاة ذبحت بغير إذن أهلها، فقالت المرأة" سقط من (ز).
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ عبارت کہ "یہ وہ بکری ہے جو اس کے مالکوں کی اجازت کے بغیر ذبح کی گئی، تو عورت نے کہا..." بھی نسخہ (ز) میں درج ہونے سے رہ گئی ہے۔
(3) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 23/ (14785) عن عبد الصمد بن عبد الوارث، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (جلد 23، حدیث 14785) میں عبد الصمد بن عبد الوارث کے طریق سے حماد بن سلمہ کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسلف مختصرًا برقم (7269).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت اس سے پہلے مختصراً حدیث نمبر (7269) کے تحت گزر چکی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 7770 in Urdu