🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. ما قطع من البهيمة وهى حية فهو ميت .
زندہ جانور کے جسم سے جو حصہ کاٹ لیا جائے وہ مردار ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7788
حدثنا الحسن بن يعقوب، حدثنا (1) محمد بن إسحاق، حدثنا أبو عاصم، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن خَيثمة، عن الأشعث بن قيس، قال: وُلد لي غلامٌ، فبُشِّرتُ به وأنا عند النبيَّ ﷺ، فقلت: وَدِدتُ لكم مكانَه قَصْعةً (2) من خُبز ولحم، فقال رسول الله ﷺ:"إنْ قلتَ ذاكَ، إنهم لمَبْحَلَةٌ مَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةٌ، وإنهم لثَمَرَةُ القلوب وقُرَّةُ العَين" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7596 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا اشعث بن قیس فرماتے ہیں: میرے ہاں بچہ پیدا ہوا، مجھے اس کی خوشخبری سنائی گئی، میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں چاہتا ہوں (کہ خوشی کے اس موقع پر میں آپ کی خدمت میں) گوشت روٹی کا تھال بھر کر پیش کروں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے یہ بات کہہ تو دی ہے لیکن یہ اولاد، کنجوسی، بزدلی، اور پریشانی کا باعث ہوتی ہے اور اولاد دلوں کا چین اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الذبائح/حدیث: 7788]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7788 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وأخرجه هناد في "الزهد" (549) عن أبي معاوية الضرير وابن بشران في "الأمالي" (310) من طريق عيسى بن يونس السبيعي، كلاهما عن الأعمش، عن خيثمة بن عبد الرحمن قال: بُشِّر الأشعث بن قيس بغلام، فذكره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ہناد نے "الزہد" (549) میں ابو معاویہ الضریر کے واسطے سے، اور ابن بشران نے "الامالی" (310) میں عیسیٰ بن یونس السبیعی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں (ابو معاویہ اور عیسیٰ) اسے امام اعمش سے اور وہ خيثمہ بن عبد الرحمن سے نقل کرتے ہیں کہ اشعث بن قیس کو بیٹے کی پیدائش کی خوشخبری دی گئی۔۔۔ (پھر پوری حدیث ذکر کی)۔
وأخرجه أحمد 36/ (21840)، والطبراني في "الكبير" (646)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (10551) من طريق مجالد بن سعيد، عن عامر الشعبي، عن الأشعث بن قيس. ومجالد ضعيف. وأخرجه الطبراني (647) من طريق ابن لهيعة، عن الحارث بن يزيد الحضرمي، عن علي بن رباح، عن الأشعث. وابن لهيعة سيئ الحفظ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 36/ (21840)، طبرانی نے "المعجم الکبیر" (646) اور بیہقی نے "شعب الایمان" (10551) میں مجالد بن سعید کے طریق سے امام شعبی کے واسطے سے حضرت اشعث بن قیس سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مجالد بن سعید "ضعیف" راوی ہے۔ نیز اسے امام طبرانی (647) نے ابن لہیعہ کے طریق سے، انہوں نے حارث بن یزید الحضرمی سے، انہوں نے علی بن رباح سے اور انہوں نے اشعث سے روایت کیا ہے، لیکن ابن لہیعہ "سیئ الحفظ" (خراب حافظے والے) راوی ہیں۔
وأخرجه وكيع في "الزهد" (178) عن أبي جناب يحيى بن أبي حية، عن القاسم بن عبد الرحمن المسعودي، فذكره بنحوه مرسلًا. وأبو جناب فيه ضعف. وسلف نحوه من حديث يعلى بن مُنية برقم (4827)، وذكرنا شواهده هناك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام وکیع نے "الزہد" (178) میں ابوجناب یحییٰ بن ابی حیہ کے واسطے سے، انہوں نے قاسم بن عبد الرحمن المسعودی سے مرسل روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابوجناب نامی راوی میں "ضعف" ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: اس مفہوم کی روایت حضرت یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ سے حدیث نمبر (4827) کے تحت گزر چکی ہے اور ہم نے وہاں اس کے تمام شواہد ذکر کر دیے ہیں۔
(1) قوله: "يعقوب حدثنا" سقط من نسخنا الخطية، وأثبتناه من "إتحاف المهرة" (276).
📝 نوٹ / توضیح: یہ الفاظ "يعقوب حدثنا" ہمارے خطی نسخوں سے ساقط (غائب) ہو گئے تھے، جنہیں ہم نے "إتحاف المهرة" (276) کی مدد سے ثابت کیا ہے۔
(2) في النسخ: قطعة، والمثبت من "تلخيص الذهبي"، وهو الموافق لمصادر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: عام نسخوں میں یہاں لفظ "قطعہ" لکھا ہے، جبکہ ہم نے اسے امام ذہبی کی "تلخیص" سے درست کر کے لکھا ہے، اور یہی دیگر ذرائعِ تخریج کے مطابق ہے۔
(3) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكن خيثمة -وهو ابن عبد الرحمن الجعفي- كان يرسل، ولا يعرف له سماع من الأشعث بن قيس، كما أنَّ بعض من أخرج الحديث رواه بصيغة الإرسال. محمد بن إسحاق: هو الصاغاني، وأبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد النبيل، وسفيان: هو الثَّوري.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں، تاہم خيثمہ بن عبد الرحمن الجعفی "ارسال" کیا کرتے تھے اور ان کا حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے سماع (ملاقات) ثابت نہیں ہے۔ اسی طرح بعض دیگر محدثین نے بھی اس حدیث کو مرسل ہی روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: (راویوں کی پہچان): محمد بن اسحاق سے مراد "الصاغانی" ہیں، ابو عاصم سے مراد "الضحاک بن مخلد النبیل" ہیں، اور سفیان سے مراد امام "سفیان ثوری" ہیں۔