المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. حكاية حمرة شكت إلى النبى عند فقد فرخيه .
ایک چڑیا کا قصہ جس نے اپنے بچے چھن جانے پر نبی کریم ﷺ سے شکایت کی
حدیث نمبر: 7791
أخبرني أبو علي الحافظ، حدثنا عبد الله بن محمد ناجيَة، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا أبو معاوية، حدثنا أبو إسحاق الشَّيباني، حدثنا الحسن ابن سعد، عن عبد الرحمن بن عبد الله مسعود، عن أبيه قال: كنَّا مع رسول الله ﷺ في سفرٍ، ومَرَرْنا بشجرةٍ فيها فَرْخا حُمَّرة، فأخذناهما، قال: فجاءت الحُمَّرةُ إلى رسول الله ﷺ وهي تَصيحُ، فقال النبيُّ ﷺ:"مَن فَجَعَ هذه بفَرخَيْها؟" قال: فقلنا: نحن، قال:"فرُدُّوهما" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7599 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7599 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک سفر میں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ ہمارا گزر ایک درخت کے قریب سے ہوا، اس پر فاختہ کے دو بچے بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے ان کو پکڑ لیا، فاختہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور اپنی زبان میں بولنے لگی۔ (اس کی بات سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اس فاختہ کے بچے کس نے اٹھا کر اس کو پریشان کیا ہے؟ ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بچے وہاں واپس رکھ کر آؤ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الذبائح/حدیث: 7791]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7791 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح، وسماع عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود من أبيه تكلّمنا عليه عند الحديث السالف برقم (278). أبو معاوية: هو محمد بن خازم، وأبو إسحاق الشيباني: هو سليمان بن أبي سليمان.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود کا اپنے والد (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے سماع کے مسئلے پر ہم نے حدیث نمبر (278) کے تحت مفصل کلام کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ابو معاویہ سے مراد محمد بن خازم ہیں، اور ابو اسحاق الشیبانی سے مراد سلیمان بن ابی سلیمان ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2675) و (5268) من طريق أبي إسحاق إبراهيم بن محمد الفزاري، عن أبي إسحاق الشيباني، عن الحسن بن سعد، بهذا الإسناد. وزاد بإثره قصة أخرى.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد (2675، 5268) نے ابو اسحاق ابراہیم بن محمد الفزاری کے طریق سے، انہوں نے ابو اسحاق الشیبانی سے، انہوں نے حسن بن سعد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور اس کے آخر میں ایک اور قصہ بھی زیادہ کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 6/ (3835) و (3836) من طريق عبد الواحد بن عبد الله بن عتبة المسعودي، عن الحسن بن سعد، به. وقرن في الرواية الثانية بالحسن بن سعد القاسمَ بن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 6/ (3835، 3836) میں عبد الواحد بن عبد اللہ بن عتبہ المسعودی کے طریق سے حسن بن سعد کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ دوسری روایت میں حسن بن سعد کے ساتھ قاسم بن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود کو بھی بطورِ متابع ذکر کیا گیا ہے۔
والحُمَّرة: طائر صغير كالعصفور، وميمه تشدَّد وتخفَّف.
📝 نوٹ / توضیح: "الحُمَّرَہ" چڑیا کی طرح کا ایک چھوٹا پرندہ ہے، اس کی "میم" پر تشدید (حُمَّرہ) اور تخفیف (حُمَرہ) دونوں طرح سے پڑھنا جائز ہے۔